سورة الأنبياء - آیت 44

بَلْ مَتَّعْنَا هَٰؤُلَاءِ وَآبَاءَهُمْ حَتَّىٰ طَالَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ ۗ أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا ۚ أَفَهُمُ الْغَالِبُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

بلکہ ہم نے انھیں اور ان کے باپ دادوں کو زندگی کے سرو سامان دیئے یہاں تک کہ ان کی مدت عمر گزر گئی (١) کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں (٢) اب کیا وہی غالب ہیں؟ (٣)۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٨) بتوں کی بے بسی بیان کرنے کے بعد یہاں یہ کہا جارہا ہے کہ مشرکین کو جو دنیاوی عیش و آرام حاصل ہے وہ بھی اللہ کی جانب سے ہے، اس لیے اگر وہ انہیں ہلاک کرنا چاہے تو کوئی بچا نہیں سکتا۔ مدت مدید سے اللہ کی نعمتوں سے بہرہ ور ہونے کی وجہ سے انہیں دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے کہ ان کی نعمتیں ہمیشہ باقی رہیں گی اور کوئی آفت انہیں لاحق نہیں ہوگی، یہ ان کی بیجا خوش فہمی ہے، کیا وہ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ جزیرہ عرب کے لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوتے جارہے ہیں اور اب ان کے شہر کی باری آنے والی ہے، تو کیا ان سب مشاہدات کے باوجود بھی وہ سمجھتے ہیں کہ ہم پر غلبہ حاصل کرلیں گے۔ آیات (٤٥، ٤٦) میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو مشرکین سے یہ کہنے کا حکم دیا ہے کہ میں جو تمہیں عذاب سے ڈڑا رہا ہوں تو یہ میری بات نہیں ہے بلکہ اللہ نے مجھے بذریعہ وحی اس بات کا حکم دیا ہے، لیکن دل کے بہروں کو کوئی کیسے سنا سکتا ہے،۔ قرآن میں مذکور وعدوں اور وعیدوں سے فائدہ اٹھانے کی تمہاری اندر اہلیت ہی نہیں ہے، شرک اور جھوٹے معبودوں سے محبت نے تمہارے دل کی آنکھوں کو اندھا کردیا ہے، اس لیے تم لوگ میری اور قرآن کی تکذیب کرتے ہو اور کسی دھمکی کی پر اہ نہیں کرتے ہو، اور تمہاری بد عقیدگی کا حال یہ ہے کہ اگر کوئی ہلکی سی تکلیف بھی تمہیں لاحق ہوتی ہے تو فورا واویلا کرنے لگتے ہو اور بتوں کو چھوڑ کر اللہ کے حضور اپنے گناہوں کا برملا اعتراف کرنے لگتے ہو۔ آیت (٤٧) میں اسی قیامت کا حال بیان کیا گیا ہے جس سے مشرکوں کو اوپر کی آیتوں میں ڈرایا گیا ہے اور جس کی وہ تکزیب کرتے رہے تھے کہ اس دن اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کے اعمال کو پورے عدل و انصاف کے ساتھ وزن کرے گا، کس پر کوئی ظلم ہیں ہوگا اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی کسی کا کوئی عمل ہوگا تو اللہ اسے سامنے لائے گا اور اس کے دیگر اعمال کے ساتھ اس کا وزن کرے گا۔ اور اللہ سے بڑھ کر حساب میں کون دقیق ہوسکتا ہے؟ اس لیے کہ اس سے زیادہ بندوں کے اچھے اور برے اعمال کو کون جانتا ہے؟ یہ آیت اس پر بھی دلیل ہے کہ قیامت کے دن اعمال کا وزن ہوگا، سورۃ الاعراف آیت (٨) کی تفسیر کے ضمن میں وزن اعمال پر تفصیل کے ساتھ لکھا جاچکا ہے، سورۃ الکہف آیت (١٠٥) میں بھی مجمل طور پر اس کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ یہاں ایک بات یہ بتانی ہے کہ انبیائے کرام اور فرشتوں کے اعمال کا وزن نہیں ہوگا، کیونکہ ان کا حساب ہی نہیں ہوگا، اسی طرح ان تمام لوگوں کے اعمال وزن نہیں کیے جائیں گے، جنہیں اللہ بے حساب و کتاب جنت میں داخل کرے گا۔ صرف انہی جنوں اور انسانوں کے اعمال کا وزن ہوگا جن کا میدان محشر میں حساب ہوگا اور جن کے اعمال اللہ کے سامنے سے گزارے جائیں گے۔