سورة الأنبياء - آیت 11

وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور بہت سی بستیاں ہم نے تباہ کردیں (١) جو ظالم تھیں اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوم کو پیدا کردیا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٩) مفسرین و مورخین کہتے ہیں کہ یہاں قریۃ سے مراد یمن کی ایک بستی ہے، اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے شعیب بن مہدم نامی ایک نبی کو مبعوث کیا، جو ابن عباس کے قول کے مطابق قبیلہ حمیر سے تعلق رکھتے تھے۔ جب ان کی قوم نے انہیں جھٹلایا اور ان پر ایمان لانے سے انکار کردیا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی سرکوبی کے لیے بخت نصر کو بھیج دیا جس نے انہیں تلواروں سے گاجر مولی کی طرح قتل کرنا شروع کردیا، جب انہوں نے اپنا یہ حال دیکھا تو اپنے گناہوں کا اعتراف کیا، لیکن اس وقت ان کی توبہ ان کے کام نہ آئی۔ آیات (١١) سے (١٥) تک اسی بستی والوں کا حال بیان کیا گیا ہے، کہ جب ان لوگوں نے اللہ کی آیتوں کی تکذیب کی اور کفر کی راہ اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بہتوں کو بخت نصر کے ہاتھوں قتل کروا دیا، اور ان کی جگہ ایک دوسری قوم کو لے آیا جو دین و اخلاق کے اعتبار سے ان سے اچھی تھی ان پر جب عذاب آنے کے آثار ظاہر ہوئے اور وہ اپنی بستی سے بھاگنے لگے، تو فرشتوں نے ان سے استہزا کے طور پر کہا کہ بھاگو نہیں، بلکہ اپنے ناز و نعم میں پڑے رہو، تم تو بڑے لوگ ہو، لوگوں کو تمہاری ضرورت ہے وہ تمہارے پاس اپنے مسائل میں صلاح و مشورے کے لیے آئیں گے جب انہوں نے دیکھا کہ عذاب الہی نے انہیں بخت نصر کی فوجوں کی شکل میں ہر چہار جانب سے گھیر لیا تب اپنے جرائم کا اعتراف کر کے کف افسوس ملنے لگے اور چیخ و پکار کرتے رہے، یہاں تک کہ بخت نصر کی فوجوں نے انہیں بیخ و بن سے ختم کردیا۔