سورة مريم - آیت 34

ذَٰلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

یہ ہے صحیح واقعہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کا، یہی ہے وہ حق بات جس میں لوگ شک شبہ میں مبتلا ہیں (١)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٦) یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ اب تک جو کچھ عیسیٰ کے بارے میں بیان ہوا اور جو انہوں نے خود اپنی زبان سے اپنے بارے میں کہا، یہی کچھ ان کی حقیقت ہے اور یہی وہ قول حق ہے جس میں لوگ اختلاف کرتے ہیں، عیسیٰ وہ نہیں ہیں جو ان کے بارے میں یہود کہتے ہیں کہ وہ جادوگر تھے اور یوسف نجات کے بیٹے تھے اور نہ وہ ہیں جو ان کے بارے میں نصاری کی ایک جماعت کہتی ہے کہ وہ اللہ تھے اور دوسری جماعت کہتی ہے کہ وہ اللہ کے بیٹے تھے، اور تیسری جماعت کہتی ہے کہ وہ تین معبودوں میں سے ایک تھے، ان میں سے جن لوگوں نے کہا کہ وہ اللہ کے بندے اس کے رسول اس کی روح اور اس کا کلمہ تھے وہ لوگ مسلمان ہوگئے۔