سورة الكهف - آیت 102

أَفَحَسِبَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن يَتَّخِذُوا عِبَادِي مِن دُونِي أَوْلِيَاءَ ۚ إِنَّا أَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ نُزُلًا

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

کیا کافر یہ خیال کئے بیٹھے ہیں؟ کہ میرے سوا وہ میرے بندوں کو اپنا حمایتی بنالیں گے؟ (سنو) ہم نے تو ان کفار کی مہمانی کے لئے جہنم کو تیار کر رکھا ہے (١)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٦١) اس آیت کریمہ میں مشرکین مکہ کے شکر کی تردید کی گئی ہے اور زجر و توبیخ کرتے وہئے ان سے کہا گیا ہے کہ کیا وہ اس گمان میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ میرے جن بندوں کو انہوں نے میرے سوا اپنا معبود بنا لیا ہے، وہ انہیں نفع پہنچا سکیں گے؟ یہ ان کی خام خیالی ہے وہ جھوٹے معبود ان کے کسی کام نہیں آئیں گے اور ہم نے تو ایسے کافروں کی ضیافت کے لیے جہنم کو تیار کر رکھا ہے۔ سورۃ مریم آیات (٨١، ٨٢) میں اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا ہے : (واتخذوا من دون اللہ الھۃ لیکونوا لھم عزا۔ کلا سیکفرون بعبادتھم ویکونون علیھم ضدا) انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کے لیے باعث عزت ہوں، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوگا وہ تو ان کی پوجا کے منکر ہوجائیں گے اور الٹے ان کے دشمن بن جائیں گے۔