سورة الكهف - آیت 94

قَالُوا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلَىٰ أَن تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

انہوں نے کہا اے ذوالقر نین! (١) یاجوج ماجوج اس ملک میں (بڑے بھاری) فسادی، (٢) ہیں تو کیا ہم آپ کے لئے کچھ خرچ کا انتظام کردیں؟ (اس شرط پر کہ) آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٥٨) ان لوگوں نے ذوالقرنین سے کہا کہ دونوں پہاڑوں کے پیچھے یاجوج و ماجوج کی قوم رہتی ہے انہیں جب بھی موقع ملتا ہے دونوں پہاڑوں کے درمیان راستہ سے ہماری طرف آجاتے ہیں اور قتل و غارتگری کرتے ہیں اور لوٹ کھسوٹ کے بعد واپس چلے جاتے ہیں۔ تو کیا آپ ہم سے معاوضہ لے کر ہمارے اور ان کے درمیان کوئی رکاوٹ کھڑی کردیں گے؟ ذوالقرنین نے اثبات میں جواب دیا اور کہا کہ مجھے تم لوگوں سے کسی معاوضہ کی ضرورت نہیں ہے، اللہ نے جو مال و دولت اور ملک و سلطنت مجھے دیا ہے وہ اس معاوضہ سے کہیں بہتر ہے جو تم لوگ مجھے دینا چاہتے ہو۔ تم لوگ صرف مزودروں، صنعت کاروں اور ضروری آلات سے میری مدد کرو تاکہ میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط رکاوٹ کھڑی کردوں، یعنی اس ورہ کو بند کردوں جس سے ہو کر وہ لوگ تمہاری طرف آجاتے ہیں، مجھے لوہے کے ٹکڑے دو، جب دونوں پہاڑوں کی درمیانی جگہ میں لوہے کی اینٹوں کی دو متوازی دیوار بنا دی تو ان لوگوں سے کہا کہ اب دونوں دیواروں کے درمیان آگ پھونکو یہاں تک کہ لوہا تپ کر آگ بن جائے۔ جب لوہا آگ بن گیا تو ذوالقرنین نے ان سے کہا کہ اب مجھے پگھلایا ہوا تانبا دو تاکہ اسے گرم لوہے پر انڈیل دوں اور وہ لوہے سے چپک جائے۔ وہ رکاوٹ اتنی اونچی اور چکنی تھی کہ اس کے بعد یاجوج و ماجوج کا آنا بند ہوگیا، اور وہ اتنی موٹی اور سخت تھی کہ ان کے لیے اس میں سوراخ کرنا ناممکن ہوگیا، ذوالقرنین نے کہا کہ یہ دیوار یہاں رہنے والوں کے لیے میرے رب کی رحمت ہے کہ اب یاجوج و ماجوج کے لوگ اس راہ سے آکر ان پر ظلم و ستم ڈھائیں گے، لیکن جب قیامت کے قریب یاجوج و ماجوج کے نکلنے کا وقت آجائے گا تو اللہ تعالیٰ اس رکاوٹ کے ریزے ریزے کردے گا اور زمین برابر ہو کر پہلے کی طرح راستہ بن جائے گا۔ اللہ کا وعدہ برحق ہے کہ قیامت آئے گی اور انسانوں کو ان کے اعمال کے مطابق وہ جزا و سزا دے گا۔ فائدہ : یاجوج و ماجوج دو عجمی نام ہیں، کہا جاتا ہے کہ وہ لوگ یافث بن نون کی اولاد سے ہیں اور ٹرکی کے لوگ انہی میں سے ہیں، بعض کہتے ہیں کہ یاجوج ترکوں میں سے اور ماجوج دحیل اور دیلم سے ہے، بعض لوگوں نے انہیں پست قد اور بعض نے لمبے قد کا بتایا ہے۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ داغستان کے علاقہ میں کوہ قاف کے پیچھے دو قبیلے رہتے تھے جن کے نام آقوق اور ماقوق تھے۔ عربوں نے تعریب کے ذریعہ انہیں یاجوج و ماجوج بنا دیا، بہت سے دیگر قبائل والے انہیں جانتے تھے اور ان کا ذکر اہل کتاب کی کتابوں میں آیا ہے انہی دونوں قبیلوں کے کثرت تناسل سے شمال اور مشرق کی قومیں وجود میں آئیں اور روس اور ایشیا کے ممالک میں پھیلتی گئیں۔ بہرحال یاجوج و ماجوج جو لوگ بھی ہوں، اتنی بات تو صحیح احادیث سے ثابت شدہ ہے کہ قرب قیامت کے وقت ذوالقرنین کی بنائی ہوئی رکاوٹ پاش پاش ہوجائے گی اور یاجوج و ماجوج کی فوج امڈ پڑے گی۔ امام احمد، ترمذی اور حاکم وغیرہم نے ابو ہریرہ سے روایت کی ہے اور محدث البانی نے اس کی تصحیح کی ہے کہ وہ لوگ تمام کنوؤں کا پانی پی جائیں گے، اور لوگ ان کے ڈر سے قلعوں میں بند ہوجائیں گے۔ اپنا تیر آسمان کی طرف چلائیں گے تو وہ خون سے لت پت ان کے پاس واپس آجائے گا، تو وہ کہیں گے کہ ہم نے زمین والوں کو مغلوب کرلیا اور آسمان والوں سے زیادہ بلند مقام والے ہوگئے، تب اللہ تعالیٰ ان کی گدیوں میں ایک بیماری پیدا کردے گا جس کی وجہ سے تمام کے تمام ہلاک ہوجائیں گے۔ رسول اللہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے کہ زمین کے چوپائے ان کے گوشت کھا کر موٹے ہوجائیں گے اور اللہ کا شکر ادا کریں گے۔