سورة الإسراء - آیت 97

وَمَن يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۖ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُمْ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِهِ ۖ وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا ۖ مَّأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اللہ جس کی رہنمائی کرے وہ تو ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ راہ سے بھٹکا دے ناممکن ہے کہ تو اس کا مددگار اس کے سوا کسی اور کو پائے، (١) ایسے لوگوں کا ہم بروز قیامت اوندھے منہ حشر کریں گے (٢) دراں حالیکہ وہ اندھے گونگے اور بہرے ہونگے (٣) ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا جب کبھی وہ بجھنے لگے گی ہم ان پر اسے اور بھڑکا دیں گے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٦٢) رشد و ہدایت اور ضلالت و گمراہی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے، وہ جسے ہدایت دینا چاہتا ہے وہی راہ راست پر آلگتا ہے اور جسے خود اس کے غلط راہ کو اختیار کرنے کی وجہ سے گمراہ کردیتا ہے اسے نہ کوئی راہ راست پر لاسکتا ہے اور نہ ہی اس کے قہر و غضب سے بچا سکتا ہے۔ آیت کریمہ میں ہدایت پانے والے کے لیے مفرد کی ضمیر استعمال ہوئی ہے (فھو المھتد) اور گمراہوں کے لیے جمع کی ضمیر (فلن تجد لھم) مفسرین لکھتے ہیں کہ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ حق کا راستہ ایک ہے اور اسے اختیار کرنے والے کم ہوتے ہیں اور کفر و ضلالت کی راہیں متعدد ہیں اور گمراہوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کافروں کو ہم ان کے چہروں کے بل گھسیٹیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ القمر آیت (٤٨) میں فرمایا ہے : (یوم یسحبون فی النار علی وجوھھم) جس دن کفار جہنم میں اپنے چہروں کے بل گھیسٹے جائیں گے اور چونکہ وہ دنیا میں اپنی آنکھوں سے راہ حق کو نہیں دیکھ پاتے تھے اپنی زبانوں سے کلمہ حق ادا نہیں کرتے تھے، اور کانوں سے حق بات سننا گوارہ نہیں کرتے تھے، اس لیے قیامت کے دن اندھے، گونگے اور بہرے اٹھائے جائیں گے ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا، جس کی لپک اور تپش جب بھی کم ہوگی اللہ اسے اور زیادہ تیز کردے گا۔ زمخشری نے لکھا ہے کہ چونکہ انہوں نے بعث بعد الموت کا انکار کردیا تھا اسی لیے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے جسموں پر آگ کو مسلط کردے گا جو ان کو کھا جائے گی تو اللہ انہیں دوبارہ بنا دے گا، اور اسی طرح فنا ہونے اور دوبارہ بنائے جانے کا عمل جاری جاری رہے گا تاکہ دنیا میں بعث بعد الموت کے انکار کی وجہ سے اس دن ان کی حسرت میں اضافہ ہوتا رہے۔ آیت (٩٨) میں مذکورہ بالا مفہوم کی تائید ہے کہ ایسا برتاؤ ان کے ساتھ اس لیے ہوگا کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کردیا تھا اور کہتے تھے کہ ہم جب مر کر صرف ہڈیاں اور راکھ ہوجائیں گے تو کیا ہمیں نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھایا جائے گا؟