سورة الإسراء - آیت 90

وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

انہوں نے کہا (١) کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان لانے کے نہیں تا وقتیکہ آپ ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری نہ کردیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٥٨) کفار قریش جب قرآن جیسا کلام نہیں لاسکے اور اس دلیل کے سامنے اپنے آپ کو بالکل بے بس پایا تو دوسری نشانیوں کا مطالبہ کرنے لگے، جن میں سے بعض کا ذکر مندرجہ ذیل آیتوں میں آیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری دعوت توحید پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے اور روز قیامت اور تمہاری نبوت کی اس وقت تک تصدیق نہیں کریں گے جب تک تم کوئی نشانی نہ پیش کرو یا تو زمین میں کوئی ایسا چشمہ جاری کردو جس کا پانی ہمیشہ جاری رہے یا تمہارے لیے کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ وجود میں آجائے جن کے درمیان نہریں جاری کردو، یا اپنے گمان کے مطابق آسمان کو ہی بطور عذاب ہمارے سروں پر گرا دو، یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آؤ جو تمہاری صداقت کی گواہی دیں یا تمہارے لیے سونے کا کوئی گھر ہی اچانک نکل آئے یا سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھو، اور دیکھو تمہارے صرف آسمان پر چڑھ جانے سے ہی ہم ایمان نہیں لائیں گے بلکہ ضروری ہے کہ وہاں سے ایک کتاب لے کر آؤ جس میں ہمیں حکم دیا گیا ہو کہ تم پر ایمان لے آئیں، اور تمہاری پیروی کریں، اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا : آپ ان کافروں سے کہیے کہ میں تو ایک انسان ہوں جسے اللہ نے اپنا رسول بنایا ہے، ایک بندہ مامور ان باتوں پر کہاں قادر ہوتا ہے جن کا تم نے ذکر کیا ہے یہ سب باتیں تو صرف اللہ کے اختیار میں ہیں۔