سورة الإسراء - آیت 56

قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِهِ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

کہہ دیجئے کہ اللہ کے سوا جنہیں تم معبود سمجھ رہے ہو انھیں پکارو لیکن نہ تو وہ تم سے کسی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں اور نہ بدل سکتے ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣٦) اس آیت کریمہ میں ان مشرکین کی تردید کی گئی ہے جو فرشتوں کے مجمسوں کی پوجا کرتے تھے اور ان اہل کتاب کی بھی تردید کی گئی ہے جو عزیز، عیسیٰ اور مریم کے معبود ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو خطاب کر کے فرمایا کہ آپ ان تمام مشرکین اور اہل کتاب سے کہہ دیجیے جو اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہیں کہ تم پر جب کوئی مصیبت آئے تو ذرا اپنے ان معبودوں کو پکار کر دیکھو تو سہی کیا وہ تمہاری تکلیف کو دور کردیتے ہیں یا دوسروں کی طرف اسے پھیر دیتے ہیں؟ جواب معلوم ہے کہ وہ اس کی قطعی طور پر قدرت نہیں رکھتے، کیونکہ نفع اور نقصان پر قادر تو صرف اللہ ہے۔ آیت (٥٧) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام، عزیر علیہ السلام، فرشتے، جن اور دیگر صالحین، جنہیں یہ مشرکین پکارتے ہیں یہ سب تو خود اعمال صالحہ کے ذریعہ اللہ کی جناب میں قربت چاہتے ہیں، اللہ کی رحمت امید لگائے رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں اس لیے کہ اس کا عذاب وہ عذاب ہے جس سے تمام ارباب عقل و خرد پناہ مانگتے ہیں تو جو خود اپنے انجام سے واقف نہیں اور جو اللہ کی رضا کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں وہ معبود کیسے ہوسکتے ہیں؟ ان کی عبادت کیسے کی جاسکتی ہے؟ (ویرجون رحمتہ ویخافون عذابہ) میں اس طرف اشارہ ہے کہ عبادت کی قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ نیک اعمال کرے گا اور جب اس کے عذاب سے ڈرے گا تو گناہ کرنے سے پرہیز کرے گا۔