سورة الإسراء - آیت 1

سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

پاک ہے (١) وہ اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے (٢) کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ (٣) تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے (٤) رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں (٥) یقیناً اللہ تعالیٰ خوب سننے دیکھنے والا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١) عربی زبان میں سبحان سبح یسبح کا مصدر ہے جس کا معنی پاکی بیان کرنا ہے، قرآن کریم میں یہ لفظ کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور تمام عیوب سے اس کی پاکی بیان کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ یہاں یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی کبرائی بیان کرنے کے لیے آیا ہے، اس کی ذات ایسی چیزوں پر قادر ہے جس پر کوئی دوسرا قادر نہیں ہے اور اس کا مظہر اسراء اور معراج کا واقعہ ہے کہ وہ اپنے بندے کو رات کے صرف ایک پہر میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گیا جو مسافت عام حالات میں ایک مسافر چالیس راتوں میں طے کرتا ہے، اس آیت کریمہ میں جمہور مفسرین کے نزدیک عبد سے مراد رسول اللہ ہیں، اہل علم کہتے ہیں کہ گر آپ کے لیے عبد یعنی بندہ سے بہتر کوئی نام اللہ کے نزدیک ہوتا تو اس آیت میں جبکہ آپ کا عظیم مقام بیان کیا جارہا ہے ضرور اس نام سے آپ کو دیا کیا جاتا۔ آیت بتاتی ہے کہ معراج کی رات نبی کریم کو مسجد حرام سے لے جایا گیا۔ لیکن مفسری لکھتے ہیں کہ آپ کو ام ہانی کے گھر سے لے جایا گیا تھا اس لیے کہ بعض احادیث میں صڑاحت اائی ہے کہ اس رات رسول اللہ کو ان ہی کے گھر سے لے جایا گیا تھا۔ اور نماز فجر سے پہلے وہاں واپس آگئے تھے، اسی لیے بہت سے مفسرین نے لکھا ہے کہ آپ کو ام ہانی کے گھر سے خانہ کعبہ کے پاس لے جایا گیا، وہاں آپ کے دل کو آب زمزم سے دھویا گیا اور اسے ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا، اور پھر آپکو وہاں سے مسجد اقصی لے جایا گیا، اللہ تعالیٰ نے مسجد اقصی میں تمام انبیاء کو جمع کردیا تمام انبیاء نے آپ کی امامت میں نماز پڑھی اور اس طرح آپ تمام نبیوں کے امام ہوگئے، آیت میں مسجد اقصی کی صفت (الذی بارکنا حولہ) بیان کی گئی ہے، یعنی دور دراز کی وہ مسجد جس کے ارد گرد اللہ تعالیٰ نے دین و دنیا کی بے شمار برکتیں رکھی ہیں، جہاں بڑے بڑے اولوالعزم انبیا مبعوث ہوئے جو بے شمار اولیا و صالحین کا مسکن رہا ہے اور جس سرزمین میں انواع و اقسام کے پھل اور کھانے کی چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ اور اس (اسراء و معراج) کا مقصد آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو اپنی عظیم آیات اور نشانیوں کا مشاہدہ کرانا چاہا، جیسے آپ کا رات کے صرف ایک پہر میں چالیس راتوں کی مسافت طے کرنا، بیت المقدس کا مشاہدہ، انبیائے کرام کا آپ کے سامنے آنا اور ان کی امامت کرانی، اور ان انبیائے کرام کے بلند و بالا مقامات کا مشاہدہ، اور پھر آسمانوں کے دروازوں کا کھولا جانا اور جنت و جہنم وغیرہ کا مشاہدہ کرنا۔ اکثر مفسرین کی رائے ہے کہ معراج کا واقعہ ہجرت سے ایک سال قبل واقع ہوا تھا۔ زہری اور ابن سعد وغیرہ کا بھی یہی خیال ہے۔ امام نووی کے نزدیک یہی صحیح ہے، امام ابن حزم نے تو مبالغہ سے کام لیا ہے اور اس پر اجماع کیا ہے اور کہا ہے کہ معراج ماہ رجب ١٢ نبوی میں واقع ہوا تھا، حافظ عبدالغنی مقدسی نے ستائیس رجب کی تاریخ کو ترجیح دی ہے اور کہا ہے کہ لوگوں کا اسی پر عمل ہے۔ اکثر و بیشتر علمائے سلف و خلف کی رائے ہے کہ نبی کریم جسم و روح دونوں کے ساتھ بیت المقدس اور پھر آسمان پر تشریف لے گئے تھے، ابن عباس، جابر، انس، حذیفہ، عمر، ابو ہریرہ، مالک بن صعصعہ، ابو حبہ البدری، ابن مسعود، ضحاک، سعید بن جبیر، قتادہ، سعید بن المسیب، ابن شہاب، ابن زید، حسن، مسروق، مجاہد، عکرمہ اور ابن جریج کا یہی قول ہے۔ طبری، احمد بن حنبل اور اکثر متاخرین فقہا اور محدثین اور متکلمین و مفسرین کا بھی یہی قول ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ معراج صرف روحانی واقع ہوا تھا، اور انہوں نے اس سورت کی آیت (٦٠) (وما جعلنا الرویا التی اریناک) سے استدلال کیا ہے کہ قرآن نے صراحت کردی ہے کہ وہ ایک خواب تھا، اور ابن اسحاق نے عائشہ اور معاویہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ کا جسم مبارک اپنی جگہ سے مفقود نہیں پایا گیا۔ اور رسول اللہ نے خود فرمایا ہے : بینا انا نائم۔ کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو میں سویا ہوا تھا۔ اور تیسرا قول یہ ہے کہ بیت المقدس تک کا سفر جسم کے ساتھ طے کیا اور وہاں سے آسمان کی طرف آپ نے روحانی سفر کیا۔ اس لیے کہ آیت میں اسراء کی تحدید مسجد اقصی تک کردی گئی ہے۔ قاضی عیاض نے اپنی کتاب الشفا میں لکھا ہے کہ حق اور صحیح انشا اللہ یہی ہے کہ معراج کا واقعہ آپ کے جسم و روح دونوں کے ساتھ پیش آیا تھا۔ آیت کریمہ صحیح احادیث اور غوروفکر سے یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ اور ظاہری معنی چھوڑ کر تاویل کی راہ اس وقت اختیار کی جاتی ہے جب ظاہری معنی مراد لینا ناممکن ہو۔ اور جسم کے ساتھ حالت بیداری میں معراج کا وقوع پذیر ہونا اللہ کی قدرت سے بعید بات نہیں ہے، اگر روحانی سفر ہوتا تو اللہ تعالیٰ بعبدہ کے بجائے بروح عبدہ کہتا، اور گر خواب کا سفر ہوتا تو اس میں نہ کوئی نشانی ہوتی نہ ہی کوئی معجزہ، اور نہ کفار اسے اپنی عقل سے بعید بات سمجھتے اور نہ اس کا انکار کرتے۔ حدیث معراج میں ہے کہ آپ نے انبیا کو بیت المقدس میں نماز پڑھائی، جبریل (علیہ السلام) براق لے کر آئے، آپ آسمان کی طرف چڑھے، آپ کے لیے آسمانوں کے دروازوں کھولے گئے، اور جبریل سے پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ کون ہے، تو انہوں نے کہا : محمد، ان آسمانوں پر آپ کی ملاقات انبیائے کرام سے ہوئی، انہوں نے آپ کو مرحبا کہا، آپ کی امت پر نماز فرض کی گئی اور آپ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اس بارے میں مشورے کیے، بعض روایات میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جبریل نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر آسمان کی طرف چڑھے، پھر چڑھتے رہے، یہاں تک کہ میں اس جگہ پر پہنچ گیا جہاں سے میں قلم سے لکھے جانے کی آوز سن رہا تھا۔ پھر آپ سدرۃ المنتہی تک پہنچے، جنت میں داخل ہوئے اور وہاں اشخاص و اشیا کا مشاہدہ کیا، ابن عباس کہتے ہیں کہ آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، حالت خواب میں نہیں، قاضی عیاض آگے لکھتے ہیں کہ اگر یہ سب کچھ حالت خواب میں ہوا ہوتا تو اسری کا لفظ استعمال نہ ہوتا اس لیے کہ خواب کے لیے یہ لفظ استعمال نہیں ہوتا۔