سورة الإسراء - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

سورۃ بنی اسرائیل مکی ہے، اس میں ایک سو گیارہ آیتیں اور بارہ رکوع ہیں۔ نام : اس کا نام (بنی اسرائیل) اس کی آیت (٤) (وقضینا الی بنی اسرائیل فی الکتاب لتفسدن فی الارض مرتین ولتعلن علوا کبیرا) سے ماخوذ ہے اسے سورۃ اسراء، اور سورۃ سبحان بھی کہتے ہیں۔ زمانہ نزول : ابن عباس کے خیال میں پوری سورت مکی ہے۔ ابن الزبیر کا بھی یہی قول ہے، لیکن انہوں نے تین آیتوں (ان ربک احاط بالناس) الاسرا : ٦٠۔ اور (وان کادوا لیستفزونک) الاسراء : ٧٦۔ اور (وقل رب ادخلنی مدخل صدق) الاسرا : ٨٠۔ کو مدنی بتایا ہے۔ مقاتل نے آیت (١٠٧) (اوتو العلم من قبلہ) کو بھی مدنی ہے۔ اس کی پہلی آیت بتاتی ہے کہ یہ سورت واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی تھی، اور صحیح احادیث کی رو سے یہ بات ثابت ہے کہ معراج نبی کریم کی ہجرت مدینہ سے صرف ایک سال پہلے واقع ہوا تھا گویا یہ سورت مکی دور کے آخر میں نازل ہوئی تھی، اسی لیئے اس میں جہاں عام مکی سورتوں کی طرح مشرکین کو ایمان باللہ اور رسالت و آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے وہیں یہود کو بھی مخاطب بنا کر انہیں رسول اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے، جن سے عنقریب مدنی زندگی میں سابقہ پڑنے والا تھا، اور اسلام کی دعوت کو مشرکین عرب کے دائرہ سے نکال کر یہود و نصاری کے سامنے پیش کیا جانا تھا، اور چونکہ اسلام انسانوں کو ایک مکمل ضابطہ حیات دینے کے لیے آیا تھا، اسی لیے اس سورت میں جو مدنی زندگی شروع ہونے سے کچھ ہی دنوں پہلے نازل ہوئی تھی، عام اخلاق، تمدن اور اجتماعی زندگی کے احکام بھی بیان کیے گئے ہیں، ور داعیان سلام کو صبر و استقامت اور نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور اس طرح اشارہ کیا گیا ہے کہ حالات عنقریب بدلنے والے ہیں کفر کا زور ٹوٹے گا اور اسلام بلند و بالا ہوگا۔