سورة النحل - آیت 85

وَإِذَا رَأَى الَّذِينَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور جب یہ ظالم عذاب دیکھ لیں گے پھر نہ تو ان سے ہلکا کیا جائے گا اور نہ وہ ڈھیل دیئے جائیں گے (١)۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٥٣) جب مشرکین عذاب جہنم کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو ان کی ہزار تمنا ہوگی کہ کس طرح یہ عذاب ان سے ٹل جائے، لیکن ٹلنا تو دور کی بات ہوگی اس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی، اور نہ ہی انہیں توبہ کی مہلت دی جائے گی، اور جب مشرکین ان معبودوں کو دیکھیں گے جنہیں وہ دنیا میں اللہ کا شریک بناتے تھے (اور بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکین کے ساتھ ان کے بتوں کو بھی زندگی دے گا اور مشرکین سے کہا جائے گا کہ ہر شخص اپنے معبود کے پیچھے لگ جائے) تو پکار اٹھیں گے کہ اے ہمارے رب ! یہی معبود ہیں جن کی ہم تیرے سوا عبادت کرتے تھے۔ ابو مسلم اصفہانی کہتے ہیں کہ مشرکین یہ بات اس امید سے کہیں گے کہ شاید اس طرح ان سے عذاب ٹل جائے گا یا کم از کم ہلکا ہوجائے گا، تو اللہ تعالیٰ مشرکین کو ذلیل و رسوا کرنے کے لیے اس دن بتوں کو زبان دے دے گا، جو ان کی تکذیب کریں گے اور کہیں گے کہ ہم نے تو تمہیں نہیں کہا تھا کہ ہماری عبادت کرو، اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحقاف آیت (٦) میں فرمایا ہے : (واذا حشر الناس کانوا لھم اعداء وکانوا بعبادتھم کافرین) کہ جس دن لوگ میدان محشر میں جمع ہوں گے تو اصنام ان کے دشمن بن جائیں گے اور ان کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ آیت (٨٧) میں فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن مشرکین اللہ کے عذاب کے سامنے سپر ڈال دیں گے اور مجسم عاجزی اور انکساری بن جائیں گے، اور دنیا میں جنہیں اللہ کا شریک بناتے رہے تھے سبھی ایک ایک کر کے ان سے چھٹ جائیں گے۔