سورة الحجر - آیت 51

وَنَبِّئْهُمْ عَن ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا (بھی) حال سنادو۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٤) جن فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا تھا، وہ پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس گئے تھے، اور انہیں اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری دی تھی، چونکہ اس واقعہ میں خوف و رجاء، خوشخبری اور ضمنی طور پر قوم لوط کی ہلاکت کی خبر تھی، اس لیے اس سے گزشتہ آیت کے مضمون کی تائید ہورہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکوں کے لیے غور رحیم ہے اور ظالموں کے لیے اس کا عذاب بہت ہی دردناک ہے۔ یہ واقعہ پوری تفصیل کے ساتھ سورۃ ہود میں گزر چکا ہے، فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس انسانوں کی شکل میں مہمان بن کر آئے اور سلام کیا تو وہ بہت خوش ہوئے، لیکن جب انہوں نے کھانے اور گوشت کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا، تو ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے بارے میں شبہ ہوا اور ڈرے کہ شاید ان کی نیت اچھی نہیں ہے، تو فرشتوں نے انہیں فورا بتایا کہ ہم اللہ کے فرشتے ہیں، آپ خائف نہ ہوں اور ہم آپ کو ایسے بیٹے کی خوشخبری دیتے ہیں جو بڑا عالم ہوگا، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ مجھے تم بڑھاپے کے باوجود ایسی خوشخبری دے رہے ہو یہ کیسی عجیب بات ہے؟ اور کیسی انہونی خوشخبری دے رہے ہو؟ فرشتوں نے مزید تاکید کے طور پر کہا کہ ہم نے آپ کو ایسی یقینی بات کی خوشخبری دی ہے جس کے نہ ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے، اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور اس کا وعدہ ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، آپ ناامید نہ ہوں، تو ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں ہرگز ناامید نہیں ہوں، ناامید ہونا تو گمراہوں کا طریقہ ہے، میں تو تمہاری خوشخبری کے مطابق امید کرتا ہوں کہ اللہ مجھے بیٹا دے گا، مجھے تو حیرت صرف اس لیے ہوئی ہے کہ عام طور پر ایسا نہیں ہوتا ہے۔