سورة الحجر - آیت 47

وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

ان کے دلوں میں جو کچھ رنجش و کینہ تھا، ہم سب کچھ نکال دیں گے (١) وہ بھائی بھائی بنے ہوئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہونگے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٢) اللہ تعالیٰ اہل جنت کے سینوں میں کوئی ایسا جذبہ نہیں رہنے دے گا جو ان کی خوشیوں کو پامال کرے اور ان کے دل و دماغ میں تکدر پیدا کرے، اس لیے ان کے سینوں سے بغض و عداوت اور حسد و کینہ کو یکسر نکال دے گا، اور جب ان کے سینے ایسے جذبوں سے پاک ہوجائیں گے تو آپس میں بھائی بن کر آمنے سامنے کرسیوں پر بیٹھیں گے، وہاں انہیں کوئی تھکن اور کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوگی، اس لیے کہ جنت میں کوئی ایسی بات نہیں ہوگی جو تکلیف کا باعث ہو، وہاں تو خوشیاں ہی خوشیاں اور راحت ہی راحت ہوگی، اہل جنت جس چیز کی بھی خواہش کریں گے از خود ان کے پاس آجائے گی، اور اہل جنت وہاں سے کبھی بھی نہیں نکالے جائیں گے۔