سورة ھود - آیت 35

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَيَّ إِجْرَامِي وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تُجْرِمُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے خود اسی نے گھڑ لیا ہے؟ تو جواب دے کہ اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہو تو میرا گناہ مجھ پر ہے اور میں ان گناہوں سے بری ہوں جو تم کر رہے ہو (١)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٤) قوم نوح کے اس قول کی تردید ہے کہ نوح (علیہ السلام) پر اللہ کی طرف سے کوئی وحی نازل نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا کہ آپ ان کافروں سے کہیے کہ اگر میں نے اللہ پر افترا پردازی کی ہے تو اس کی سزا بھگتنے کے لیے تیار ہوں، اور اگر میں سچا ہوں اور تم لوگ مجھے جھٹلا رہے ہو تو تم لوگ اس کی تکذیب کی سزا پانے کے لیے تیار رہو، اور یہ جان لو کہ میں تمہارے جرائم سے یکسر بری ہوں۔