سورة التوبہ - آیت 71

وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَٰئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

مومن مرد و عورت آپس میں ایک دوسرے کے مددگار و معاون اور دوست ہیں (١) وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں (٢) نمازوں کی پابندی بجا لاتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں (٣) یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ بہت جلد رحم فرمائے گا بیشک اللہ غلبے والا حکمت والا ہے۔

تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ

54۔ آیت 67 میں منافقین اور منافقات کی مذموم صفات بیان کرنے کے بعد اب یہاں مؤمنین اور مؤمنات کی صفات حمیدہ بیان کی جا رہی ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے دل سے محبت کرتے ہیں، اسلیے کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا یہی تقاضا ہے، لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہیں، جس میں سر فہرست توحید باری تعالیٰ اور صرف اسی کی عبادت کی دعوت دینی ہے۔ اور برائی سے روکتے ہیں، اور ذکر الٰہی میں مشغول رہنے کے لیے نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ اور منافقوں کی طرح اپنے ہاتھوں کو سمیٹے نہیں رہتے، بلکہ اگر اللہ مال دیتا ہے تو اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں، اور راہ سرکشی نہیں اختیار کرتے ہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ اور ان خوبیوں کی وجہ سے دنیا میں ان پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔