سورة التوبہ - آیت 33

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اسی نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا ہے کہ اسے اور تمام مذہبوں پر غالب کر دے (١) اگرچہ مشرک برا مانیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(27) گذشتہ آیت میں جو بات کہی گئی ہے اسی کو مزید تاکید کے ساتھ بیان کیا جارہا ہے آیت میں ھدی سے مراد قرآن کریم یا وہ براہین ومعجزات ہیں جو اللہ تعا لیءنبی کر یم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا کیا تھا اور دین الحق سے مراد دین اسلام یا عقیدہ توحید ہے اور گذشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کی حفاظت اور سے پوری دنیا میں پھیلا نے کا جو وعدہ کیا تھا اسی کو یہاں پھر دہرایا ہے اللہ تعالیٰ اس دین کو تمام ادیان کے مقابلے میں شہرت ومقبولیت دے کر رہے گا۔ مسند احمد صحیح مسلم اور سنن ابو داؤد کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لیے سکیڑ دیا اور میری امت کی حکو مت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک زمین میرے لیے سکیڑ دی گئی ہے امام احمد نے مقداد بن اسود (رض) سے روایت کی ہے انہوں نے کہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ سرزمین پر کوئی ایسا گھر نہیں ہوگا جس میں اسلام کی دعوت نہیں پہنچے گی۔