سورة التوبہ - آیت 3

وَأَذَانٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ ۙ وَرَسُولُهُ ۚ فَإِن تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ الَّذِينَ كَفَرُوا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو بڑے حج کے دن (١) صاف اطلاع ہے کہ اللہ مشرکوں سے بیزار ہے، اور اس کا رسول بھی، اگر اب بھی تم توبہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، اور اگر تم روگردانی کرو تو جان لو کہ تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے، اور کافروں کو دکھ کی مار کی خبر پہنچا دیجئے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

پہلی آیت میں اور اس آیت کے معنی میں فرق یہ ہے کہ پہلی آیت میں مشرکوں سے براءت ثابت ہوجا نے کی خبر دی گئی ہے جبکہ آیت اور اس آیت کے معنی میں فرق کے اعلان کو واجب بتایا گیا ہے اسی طرح براءت کا تعلق ان مشرکوں سے تھا جن کے ساتھ مسلمانوں کا کوئی معاہدہ تھا اور اعلان براءت تمام لوگوں کے لیے عام تھا تاکہ سب کو خبر ہوجائے۔