سورة الانفال - آیت 35

وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِندَ الْبَيْتِ إِلَّا مُكَاءً وَتَصْدِيَةً ۚ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور ان کی نماز کعبہ کے پاس صرف یہ تھی سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا (١) سو اپنے کفر کے سبب اس عذاب کا مزہ چکھو۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(29) مشرکین مکہ بیت اللہ کے پاس جمع ہو کر سیٹیا اور تالیاں بجاتے تھے تاکہ مسلمان خشوع وخضوع کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکیں زہر کہتے ہیں کہ سیٹی اور تالی بجاکر مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے، اور مجاہد کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز شروع کرتے تو مشر کین سیٹیان اور تالیاں بجانا شروع کرتے تھے۔ حافظ ابن القیم نے اپنی کتاب اغاثتہ اللمفان میں لکھا ہے کہ تالیاں اور سیٹیاں بجاکر اللہ کی قربت حاصل کرنے والے۔ اور نمازیوں ذکر کرنے والوں اور قرآن کی تلاوت کرنے والوں کو تشویس میں مبتلا کرنے والے انہی مشر کین مکہ کے مانند ہیں، شیخ الاسلام امام ابن تیمہ لکتھے ہیں کہ تالی بجانا ڈھول اور تاشے پیٹنا اور بانسر وغیرہ بجانا اللہ کے دین کا حصہ اور اس کی قربت کا ذریعہ ہرگز نہیں ہوسکتا دین اسلام سے ان باتوں کا کوئی تعلق نہیں ہے نہ نبی کر یم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان باتون کو مشروع قرار دیا نہ خلفائے اربعہ نے اور نہ کسی امام نے اور نہ ہی تعداد انہیں گناہوں میں مبتلا ہے اور گمان کرے ہیں کہ وہ قص وغناء کے ذریعہ اللہ کی قربت حاصل کرتے ہیں یقینا یہ لوگ مشرکین مکہ سے کم نہیں ہیں۔