سورة القارعة - آیت 1

لْقَارِعَةُ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

کھڑ کھڑا دینے والی

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[١] الْقَارِعَۃُ۔ قرع بمعنی ایک چیز کو دوسری چیز پر اس طرح مارنا کہ آواز پیدا ہو اور قَرَعَ الْبَاب بمعنی اس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور قارِعَۃٌ بمعنی کھڑکھڑانے والی اور ابن الفارس کے نزدیک ہر وہ چیز جو انسان پر شدت کے ساتھ نازل ہو وہ قارِعَۃٌ ہے (مقاییس اللغۃ) یعنی کوئی عظیم حادثہ یا بھاری آفت جو انسان کو گھبراہٹ میں ڈال دے اور اس سے مراد قیامت ہے۔