سورة الملك - آیت 15

هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ ۖ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

وہ ذات جس نے تمہارے لئے زمین کو پست و مطیع کردیا تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ کی روزیاں کھاؤ (پیو) (١) اسی کی طرف (تمہیں) جی کر اٹھ کھڑے ہونا ہے۔

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[١٨] ذَلُوْلٌ۔ ذل بمعنی کمزور اور زبردست ہونا اور ذلول بمعنی کسی چیز کا طوعاً اپنی سرکشی کو چھوڑ کر مطیع ومنقاد ہوجانا ہے اور یہ لفظ انسان کا اپنی محنت سے کسی چیز کو اپنا تابع فرمان بنانے اور اس چیز کے تابع فرمان بن جانے کے پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم زمین میں محنت کرکے جیسے فائدے اس سے حاصل کرنا چاہتے ہو کرسکتے ہو۔ اس میں کھیتی باڑی کرسکتے ہو۔ اس سے معدنیات اور دوسرے زمین میں مدفون خزانے نکال سکتے ہو اس میں سفر کرکے تجارتی فوائد حاصل کرسکتے ہو۔ [١٩] اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل یعنی زمین سے تم جتنے فائدے اٹھا سکتے ہو اٹھاؤ۔ لیکن یہ بات تمہیں ہر وقت ملحوظ رکھنی چاہئے کہ تم مرنے کے بعد اللہ کے حضور پیش ہونے والے ہو لہٰذا زمین سے فائدے اٹھاتے ہوئے تمہیں دوسروں کی حق تلفی نہ کرنا چاہیے۔