سورة الحشر - آیت 24

هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ۚ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

وہی ہے اللہ پیدا کرنے والا وجود بخشنے والا (١) صورت بنانے والا، اسی کے لئے نہایت اچھے نام ہیں (٢) ہر چیز خواہ وہ آسمانوں میں ہو خواہ زمین میں ہو اس کی پاکی بیان کرتی ہے (٣) اور وہی غالب حکمت والا ہے (٤)۔

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

٣٩] الخَالِق۔ خلق کا لفظ تین معنوں میں آتا ہے۔ (١) کسی چیز کو بنانے کے لیے اس کا اندازہ لگانا یا خاکہ تیار کرنا۔ گویا تخلیق کا کام ذہنی بھی ہوسکتا ہے اور اس کی نسبت غیر اللہ کی طرف بھی ہوسکتی ہے۔ (٢) کبھی یہ لفظ ابداع کے معنوں میں بھی آجاتا ہے۔ یعنی پہلی بار بنانا اور کسی نمونہ کے یا کسی تقلید کے بغیر بنانا۔ انوکھی چیز بنانا' قرآن کریم میں جیسے اللہ تعالیٰ کے لیے ﴿خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضَ﴾ ہے ویسے ہی ﴿بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضِ﴾ بھی آتا ہے۔ اس صورت میں اس کی نسبت غیر اللہ کی طرف نہیں ہوسکتی، (٣) اور خلق کا عام مفہوم یہ ہے کہ ایک چیز سے دوسری چیز بنائی جائے۔ پہلے مادہ موجود ہو تو اس سے کوئی دوسری چیز بنائی جائے۔ اس صورت میں بھی اس کی نسبت غیر اللہ کی طرف ہوسکتی ہے۔ اور اس لحاظ سے اللہ خالق ہی نہیں بلکہ احسن الخالقین ہے۔ [٤٠] البَارِیُ۔ برأ بمعنی کسی چیز کو عدم سے وجود میں لانا، جامہ خلقت پہنانا، کسی چیز کا مادہ بھی وجود میں لانا پھر اس سے تخلیق کرنا یا بغیر مادہ کے تخلیق کرنا اور یہ صفت صرف اللہ کی ہے۔ دوسرا کوئی باری نہیں ہوسکتا۔ [٤١] المُصَوِّرُ بمعنی صورت بنانے والا۔ تصویر بنانے والا۔ اس کے کئی پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ وہ رحم مادر میں نطفہ اور مضغہ پر نقش و نگار بناتا ہے کسی کے نقوش تیکھے، کسی کے بھدے، کسی کی آنکھیں موٹی، کسی کی چھوٹی، کسی کا قد چھوٹا کسی کا بڑا۔ دوسرا پہلو یہ کہ ہر جاندار کی شکل و صورت الگ الگ ہے۔ انسان کی صورت الگ ہے، گھوڑے کی الگ، شیر کی الگ، بکری کی الگ، وغیرہ وغیرہ، تیسرا پہلو نباتات اور مختلف قسم کے پھولوں کی شکل و صورت ہے۔ غرضیکہ ہر چیز کو اللہ نے ایک صورت عطا فرمائی اور وہ بڑی اچھی صورت بنانے والا ہے۔ [٤٢] اللہ کے ماسوائے اللہ تعالیٰ کے باقی سب نام صفاتی ہیں۔ اور چونکہ اللہ کی سب صفات بہترین ہیں۔ لہٰذا اس کے سب نام بھی اچھے ہیں۔ جو اعلیٰ درجہ کی خوبیوں اور کمالات پر دلالت کرتے ہیں۔ عیب اور نقص والی کوئی صفت اس میں ہے ہی نہیں۔ احادیث صحیحہ کے مطابق ان ناموں کی تعداد ننانوے ہے۔ ان کو حفظ کرنا اور صبح و شام ان کو پڑھنا باعث خیروبرکت ہے۔