سورة آل عمران - آیت 162

أَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللَّهِ كَمَن بَاءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

کیا پس وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے درپے ہے اس شخص جیسا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی لے کر لوٹتا ہے؟ اور جس کی جگہ جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے۔

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[١٥٨] وحی کی ضرورت اور من کا لغوی معنیٰ :۔ یہاں پھر انہیں دو گروہوں کا تقابل پیش کیا جارہا ہے۔ جو غزوہ بدر یا احد میں نبرد آزما تھے۔ ان میں سے ایک گروہ اللہ کی رضا اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے لڑ رہا تھا اور دوسرا اللہ کے دین کو کچلنے اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرنے کے لئے لڑ رہا تھا اور یہی دوسرا گروہ ہی اللہ کے غضب میں گرفتار ہوا اور بالآخر اپنا وجود ہی کھو بیٹھا اور اخروی زندگی میں جہنم اس کے مقدر ہوچکی ہے۔ لڑائی کے اعتبار سے دونوں کی سرگرمیاں ایک جیسی تھیں۔ مگر ان دونوں کے انجام ایک دوسرے کی عین ضد ہیں۔