سورة الشورى - آیت 13

شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ ۖ أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ ۚ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ۚ اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کردیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا اور جو (بذریعہ وحی) ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ (١) ڈالنا جس چیز کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں وہ تو (ان) مشرکین پر گراں گزرتی ہے (٢) اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنا برگزیدہ بناتا (٣) ہے اور جو بھی اس کی طرف رجوع کرے وہ اس کی صحیح راہنمائی کرتا ہے (٤)۔

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[١٤] دین اور شریعت میں فرق اور متبدل احکام کی مثالیں :۔ اس آیت میں ایک شرع کا لفظ آیا ہے اور شریعت کا لفظ اسی سے مشتق ہے۔ اور دوسرا دین کا۔ اور ﴿ مِنَ الدِّیْنِ﴾سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شریعت بھی دین کا حصہ ہی ہوتی ہے۔ اس فرق کو ہم یہاں ذرا وضاحت سے پیش کرتے ہیں : دین کا لفظ بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ مختصراً یہ چار معانی میں استعمال ہوتا ہے (١) اللہ کی کامل اور مکمل سیاسی اور قانونی حاکمیت، (٢) انسان کی مکمل عبودیت اور بندگی، (٣) قانون جزا و سزا یا تعزیرات ملکی، (٤) قانون جزا و سزا کے نفاذ کی قدرت، پھر یہ لفظ کبھی ایک معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی ایک سے زیادہ معنوں میں۔ اب دین کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو کچھ باتوں کا حکم دے، کچھ کاموں سے منع کرے اور جو شخص ان احکام کے مطابق عمل کرے انہیں اچھا بدلہ دے اور جو حکم عدولی کرے اسے سزا بھی دے۔ چنانچہ ایسے احکام جو سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر غیر متبدل رہے ہیں یہی اصل دین ہے مثلاً شرک کی حرمت، آخرت اور اس کا محاسبہ، نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم، قتل ناحق، چوری، زنا اور فواحش سے اجتناب وغیرہ۔ اور شرع کا لغوی معنی واضح راستہ متعین کرنا ہے۔ (مفردات القرآن) اور شریعت سے مراد وہ احکام ہیں جو زمانہ کی ضرورتوں اور احوال و ظروف کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔ مثلاً سیدنا آدم علیہ السلام کی اولاد میں بہن بھائی کا نکاح جائز تھا اور یہ ایک اضطراری امر تھا۔ جو بعد کی شریعتوں میں حرام قرار دیا گیا۔ سیدنا یعقوب علیہ السلام کی زوجیت میں دو حقیقی بہنیں تھیں جو بعد کی شریعتوں میں حرام قرار دی گئیں۔ اسی طرح اس دور میں سجدہ تعظیمی جائز تھا۔ جو بعد میں حرام کردیا گیا۔ سابقہ شریعتوں میں اموال غنیمت سے استفادہ ناجائز تھا جو امت مسلمہ کے لیے حلال قرار دیا گیا۔ سابقہ شریعتوں میں نمازوں کی تعداد اور ان کی ادائیگی کا طریقہ، زکوٰۃ کی شرح اور روزوں کی تعداد ہماری موجودہ شریعت سے بالکل مختلف تھی۔ غرضیکہ ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ دین اور شریعت کے اس فرق کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں واضح فرمایا کہ : ’’ تمام انبیاء علاتی (سوتیلے) بھائی ہیں۔ ان کی مائیں (شریعتیں) تو الگ الگ ہیں مگر ان کا باپ (دین) ایک ہی ہے‘‘ (بخاری۔ کتاب الانبیاء ۔ باب واذکر فی الکتاب مریم۔۔) گویا اصول اور بنیادی احکام کا نام دین ہے اور دین کا یہ حصہ غیر متبدل ہے۔ دوسرا حصہ وہ ہے جس میں ان اصولی احکام کی جزئیات میں تبدیلی واقع ہوتی رہی ہے۔ اسی متبدل حصہ کا نام شریعت ہے۔ یہاں یہ بات ملحوظ رکھنی چاہئے اور خوب ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ صاحب شریعت نبی کی شریعت اگرچہ مختلف رہی ہے مگر وہ اس مخصوص نبی کے دین کا حصہ ہی ہوتی ہے اور دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ آپ چونکہ آخری نبی ہیں۔ لہٰذا آپ کو جو شریعت ملی ہے وہ بھی اب غیر متبدل ہے اور زمانہ کے بدلتے ہوئے تقاضوں کا حل اب پوری شریعت اسلامیہ سے بذریعہ اجتہاد معلوم کیا جائے گا۔ [١٥] اس آیت میں پانچ اولوالعزم انبیاء کا ذکر ہوا ہے۔ سب سے پہلے صاحب شریعت نبی نوح علیہ اسلام تھے پہلے ان کا ذکر ہوا اور سب سے آخری محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے پھر ان کا ذکر ہوا پھر اس درمیانی عرصہ کے تین صاحب شریعت انبیاء سیدنا ابراہیم، سیدنا موسیٰ اور سیدنا عیسیٰ علیہم السلام کا ذکر ہوا اور بتایا یہ گیا ہے کہ جس طرح ہم نے سابقہ انبیاء کے لیے دین کے ساتھ شریعت بھی وضاحت کے ساتھ وحی کردی تھی۔ اسی طرح آپ کے لیے ایسے ہی طریقہ پر وحی کی جارہی ہے۔ یعنی دین کا غیر متبدل حصہ بھی اور متبدل حصہ یا شریعت بھی۔ پھر بعض دفعہ دین کے صرف غیر متبدل حصہ پر بھی لفظ دین کا اطلاق ہوتا ہے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا حدیث سے واضح ہے۔ [١٦] یعنی سب انبیاء کو دین اور شریعت دے کر یہ تاکید کی گئی تھی کہ اس دین کو قائم رکھو، قائم رکھنے سے مراد ہے کہ پہلے اس کے احکام خود بجا لاؤ۔ پھر ایمان لانے والوں میں ان احکام کو نافذ کرو۔ اور دین کے جو غیر متبدل اصول ہیں۔ یعنی توحید اور معاد وغیرہ جو اوپر مذکور ہوئے ان میں اختلاف نہ ڈالو۔ اس جملہ کے مخاطب اگرچہ بظاہر انبیاء معلوم ہوتے ہیں تاہم اس کے مخاطب ان انبیاء کے متبعین ہیں اور یہ انداز تاکید مزید کے لیے ہے کیونکہ انبیاء کا تو مشن ہی یہ ہوتا ہے کہ سابقہ اختلاف کو ختم کریں چہ جائیکہ نئے اختلافات ڈالیں۔ [١٧] یعنی وہی توحید اور روز آخرت کا محاسبہ جو تمام سابقہ انبیاء کے دین کا غیر متبدل حصہ رہا ہے اور جس میں کسی اختلاف کی گنجائش نہیں ہوسکتی تھی۔ اسی بات کی جب ان مشرکین مکہ کو دعوت دی جاتی ہے تو ان پر گراں گزرتی ہے۔ سیدنا آدم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا نوح صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک جو چیز معقول اور سب انبیاء کی متفق علیہ تعلیم تھی وہی انہیں بھاری معلوم ہونے لگی۔ اور اسی بنیادی تعلیم سے ہی اختلاف کرکے یہ اس کے مخالف بن گئے ہیں گویا ان کی جہالت اور بدبختی کی حد ہوچکی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس سادہ اور صاف ستھری تعلیم سے استفادہ وہی شخص کرسکتا ہے جو خود بھی ہدایت کا طالب ہو اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ جس قدر زیادہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہوگا اتنا ہی زیادہ اللہ کی ہدایت سے فیض یاب ہوگا۔