سورة العنكبوت - آیت 29

أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُونَ السَّبِيلَ وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنكَرَ ۖ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

کیا تم مردوں کے پاس بد فعلی کے لئے آتے ہو (١) اور راستے بند کرتے ہو (٢) اور اپنی عام مجلسوں میں بے حیائیوں کا کام کرتے ہو (٣) اس کے جواب میں اس کی قوم نے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہا بس (٤) جا اگر سچا ہے تو ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آ۔

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[ ٤٤] ﴿تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ ﴾کے دو مطلب ہیں ایک تو ترجمہ سے واضح ہے۔ ان لوگوں کی صرف یہی بدعادت نہیں تھی کہ وہ لونڈے بازی کرتے تھے بلکہ مسافروں کی راہ تکتے رہتے، پھر انھیں اپنے ساتھ بستی میں لے آتے اس سے لواطت بھی کرتے پھر اس کا مال اسباب نقدی وغیرہ چھین کر اسے اپنی بستی سے باہر نکال دیتے تھے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرکے بقائے نقل انسانی کے فطری طریق کو قطع کرتے تھے۔ [ ٤٥] قوم لوط کی کارستانیاں :۔یعنی یہ لوگ اجتماعی قسم کی لواطت کرتے تھے۔ مثلاً جب کوئی مسافر یا کوئی خوبصورت لڑکا ان کے ہتھے چڑھ جاتا تو اسے اپنے ڈیرے پر لے جاتے پھر باری باری ایک دوسرے کے سامنے اس سے لواطت کرتے تھے۔ اور اس میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے تھے۔ اور اپنی مجالس میں ایک دوسرے سے انتہائی لچر اور بے حیائی کی زبان استعمال کرتے تھے۔ [ ٤٦] یہ اس قوم کا پہلا جواب تھا۔ اور منکرین حق یہ جواب عموماً اس لئے دیتے ہیں کہ وہ انبیاء کو اور ان کی دعوت کو جھوٹا سمجھتے تھے اور ان کے وعدہ عذاب کا انھیں قطعاً یقین نہیں ہوتا۔ اس مقام پر ان لوگوں کے اسی جواب کا ذکر ہے اور دوسرے مقام پر ان کا دوسرا جواب مذکور ہے جو یہ تھا۔ کہ تم لوگ اپنے آپ کو پاکباز اور ہمیں گندے لوگ سمجھتے ہو تو پاکباز لوگوں کا ہم جیسے گندے لوگوں میں کیا کام؟ لہٰذا تم لوگ یہاں سے نکل کر کسی دوسری جگہ چلے جاؤ۔ اور اگر تم نے اپنا وعظ نصیحت نہ چھوڑی تو پھر ہم تم لوگوں کو اپنی بستی سے نکال کر باہر کریں گے۔