سورة الانفال - آیت 32

وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور جب کہ ان لوگوں نے کہا کہ اے اللہ! اگر یہ قرآن آپ کی طرف سے واقعی ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسایا ہم پر کوئی دردناک عذاب واقع کردے۔

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[٣٣] ابو جہل کا مطالبہ عذاب :۔ یہ بات ابو جہل نے کہی تھی اور ازراہ طنز کہی تھی اور مسلمانوں کو سنا کر کہی تھی۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ اگر یہ مسلمان سچے ہیں تو جس قدر دکھ اور تکلیفیں ہم انہیں پہنچا رہے ہیں اس کی پاداش میں تو ہم پر اب تک آسمان سے عذاب نازل ہوجانا چاہیے تھا اور وہ عذاب چونکہ آج تک ہم پر نازل نہیں ہوا۔ لہٰذا مسلمانوں کا دین جھوٹا ہے اور یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہو سکتا۔ ابوجہل کی اس دعا کا ایک جواب تو پہلے اسی سورۃ میں گزر چکا ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے کافروں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اس (غزوہ بدر) سے پہلے تم حق اور باطل میں فیصلہ کرنے کے لیے دعائیں کرتے تھے۔ سو اب غزوہ بدر کی صورت میں میرا فیصلہ تم کو معلوم ہوچکا اور اگر تم لوگ اب بھی باز آ جاؤ تو تمہارا بھلا اسی میں ہے اور اگر اب بھی باز نہ آئے تو پھر میں تمہیں دوبارہ ایسی ہی سزا دوں گا اور دوسرا جواب اگلی آیت میں مذکور ہے۔