سورة النسآء - آیت 129

وَلَن تَسْتَطِيعُوا أَن تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ ۖ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ ۚ وَإِن تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

تم سے یہ کبھی نہیں ہو سکے گا کہ اپنی تمام بیویوں میں ہر طرح عدل کرو گو تم اس کی کتنی ہی خواہش و کوشش کرلو اس لئے بالکل ہی ایک کی طرف مائل ہو کر دوسری کو ادھڑ لٹکتی نہ چھوڑو (١) اور اگر تم اصلاح کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بیشک اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت اور رحمت والا ہے۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بیویوں کے معاملات میں انصاف سے کام لیں۔ خرچ میں حقوق زوجیت میں، زبانی الفاظ کہنے میں انصاف ہوسکتا ہے۔ مگر جو باتیں انسان کے بس میں نہیں ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ہی فرمادیا کہ تم کماحقہ عدل نہ کرسکو گے، یعنی دلی جذبات میں انسان بے بس ہوتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ اپنی ازواج میں برابری کا پورا انتظام کرتے تھے اور دعا کرتے تھے کہ جو چیز میرے اختیار میں نہیں اُس میں میری پکڑ نہ کیجئے۔ (ابو داؤد: ۲۱۳۴، مسند احمد: ۶/ ۱۴۴، ح: ۲۵۱۶۴) آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بہت زیادہ محبت فرماتے تھے۔ (بخاری: ۴۳۵۸) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی سے فرمایا: ’’حضرت عائشہ کے بارے میں کسی بھول میں نہ رہنا، کیونکہ وہ رسول اللہ کوزیادہ پسند تھیں۔‘‘ (مسلم: ۱۴۷۹) حسد سے بچانے کے لیے فرمایا۔ احسان سے عدل اور عدل سے اصلاح تک، اور پھر اللہ سے ڈرتے رہو تو یقیناً اللہ کو بخشنے والا رحم کرنے والا پاؤ گے۔