سورة النسآء - آیت 9

وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللَّهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

چاہیے کہ وہ اس بات سے ڈریں کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے (ننھے ننھے) ناتواں بچے چھوڑ جاتے جنکے ضائع ہوجانے کا اندیشہ رہتا (تو ان کی چاہت کیا ہوتی) پس اللہ تعالیٰ سے ڈر کر جچی تلی بات کہا کریں (١)

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

اللہ تعالیٰ نے جانے والے انسان کے بچوں کو دیکھ کر جھنجھوڑا ہے کہ ان بچوں کے سر پر کوئی نہیں، کوئی مددگار نہیں ایسے حالات دیکھ کر ایک باپ کے دل میں نرمی اورخوف خدا پیدا ہوجاتا ہے۔ کہ اگر میرے بچے یتیم ہوگئے تو کیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ایسے ہی جو یتیم بچے تمہارے زیر کفالت ہیں ان سے اچھا سلوک کرو، اچھی تربیت کرو، ان سے سیدھی اور سچی بات کہو۔ ان کی صحیح نگرانی کرو، تاکہ یتیموں کے دل شکستہ نہ ہو۔ سیدنا جابر کہتے ہیں سعد بن ربیعہ کی بیوی اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور کہا کہ ان کا والد جنگ اُحد میں شہید ہوگیا ۔ بچیوں کے چچا نے ان کے سارے ترکہ پر قبضہ کرلیا ہے۔ ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا، اور مال کے بغیر ان کا نکاح بھی نہیں ہوسکتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ خود اس معاملہ میں فیصلہ فرمائے گا۔‘‘ پھر میراث کی آیات نازل ہوئیں تو آپ نے سعد کے بھائی کو بلایا اور فرمایا: ’’ترکہ میں سے دو تہائی سعد کی بچیوں کو دو اور آٹھواں حصہ ان کی والدہ کو، باقی تمہارا حصہ ہے۔‘‘ (ابو داؤد: ۲۸۹۳، ترمذی: ۲۰۹۲)