سورة القمر - آیت 27

إِنَّا مُرْسِلُو النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

بیشک ہم ان کی آزمائش کے لئے اونٹنی بھیجیں گے (١) پس (اے صالح) تو ان کا منتظر رہ اور صبر کر۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

ناقۃ اللہ کی صفات اور قوم کی آزمائش: یہ دیوہیکل اونٹنی قوم ثمود کے مطالبہ پر انھیں بطور معجزہ دی گئی تھی۔ یہ جہاں بھی جاتی تھی دوسرے جانور ڈر کے مارے بھاگ جاتے تھے۔ لہٰذا اس اونٹنی کا احترام اس قوم کے لیے آزمائش بن گیا تھا۔ بالآخر وحی الٰہی کے مطابق یہ طے ہوا کہ ایک دن بستی کے کنوئیں سے یہ اونٹنی پانی پیے گی اور دوسرے دن قوم کے دوسرے جانور۔ ساتھ ہی قوم کو آگاہ کر دیا گیا کہ اگر تم اس فیصلے میں رد و بدل کرو گے یا اس اونٹنی کو دکھ پہنچاؤ گے تو پھر تمہاری خیر نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ اور ان کی ایذاؤں پر صبر کرو۔ دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا۔