سورة آل عمران - آیت 124

إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ أَلَن يَكْفِيَكُمْ أَن يُمِدَّكُمْ رَبُّكُم بِثَلَاثَةِ آلَافٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُنزَلِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

(اور یہ شکر گزاری باعث نصرت و امداد ہو) جب آپ مومنوں کو تسلی دے رہے تھے کیا آسمان سے تین ہزار فرشتے اتار کر اللہ تعالیٰ کا تمہاری مدد کرنا تمہیں کافی نہ ہوگا۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

کیا غزوہ میں فرشتے نازل ہوئے تھے جب دو قبیلوں (بنو حارثہ اور بنو سلمہ) نے کمزوری دکھائی تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اور دوسرے مسلمانوں کی ڈھارس بندھاتے ہوئے فرمایا ’’کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ اللہ تعالیٰ تین ہزار فرشتے بھیج کر تمہاری مدد فرمائے جیسا کہ میدان بدر میں تمہاری مدد فرمائی۔‘‘ (بخاری، قبلہ ح: ۳۹۵۱) واقعات کو سمجھنے کے لیے پس منظر جاننا ضروری ہے۔ جنگ اُحد: اس جنگ کا اجمالی نقشہ یہ ہے: (۱) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مورچہ بندی کروائی۔ (۲) اُحد کی گھاٹی پر خود نزول فرمایا۔ (۳) تیرانداز پہاڑ کی چوٹی پر متعین کیے۔ (۴) شگاف کو پُرکروادیا۔ کمانڈر کو حکم دیا کہ آپ پیچھے سے تیراندازی کرکے دشمن کو ہم سے دور رکھنا۔ (۲)ہماری پشت کی حفاظت کرنا۔ (۳) اگر مارے جائیں تو مدد کو نہ آنا۔ (۴) اگر مال غنیمت سمیٹ رہے ہوں تب بھی اپنی جگہ نہ چھوڑنا جب تک کہ میں نہ بلا لوں۔ اگر پرندے بھی اُچک لیں۔ تب بھی نہ آنا ۔ ان احکامات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے شکست ہوئی۔ جنگ احد میں گھوڑوں کی دھول، اپنی پگڑیوں، گردن کے بالوں سے فرشتے پہچانے جارہے تھے۔