سورة الروم - آیت 20

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب انسان بن کر (چلتے پھرتے) پھیل رہے ہو (١)

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

پھر فرمایا، اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بے شمار نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے باپ حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا ۔ تم سب کو اس نے بے وقعت پانی سے پیدا کیا، پھر تمہاری بہت اچھی صورتیں بنائیں اور ہڈیوں کو گوشت پہنایا۔ پھر روح پھونکی، آنکھ، کان، ناک پیدا کیے، ماں کے پیٹ سے سلامتی سے نکالا، پھر کمزوری کو قوت میں بدلا۔ دن بدن طاقتور اور مضبوط قدر آور اور زور آور کیا، عمردی، حرکت، سکون کی طاقت دی۔ اسباب اور آلات دیے اور مخلوق کا سردار بنایا اور ادھر سے اُدھر پہنچنے کے ذرائع دیے، سمندروں کی اور زمین کی مختلف قسم کی سواریاں عطا فرمائیں،عقل،علم، سوچ، سمجھ، تدبر اور غور کے لیے دل ودماغ عطا فرمائے، دنیاوی کام سمجھائے، رزق اور عزت حاصل کرنے کے طریقے کھول دیئے۔ ساتھ ہی آخرت کو سنوارنے کا علم اور دنیاوی علم بھی سکھایا۔ پاک ہے وہ اللہ جو ہر چیز کا صحیح اندازہ کرتاہے۔ ہر ایک کو ایک مرتبے پر رکھتاہے، شکل و صورت میں، بول چال میں، امیری فقیر ی میں، عقل وہنر میں، بھلائی و برائی میں،سعادت وشقاوت میں ہر ایک کو جداگانہ کردیاتاکہ ہر شخص رب کی بہت سی نشانیاں اپنے میں اور دوسرے میں دیکھ لے ۔ (ابن کثیر) ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے زمین سے ایک مٹھی مٹی لے کر اس سے (حضرت) آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا ۔ پس زمین کے مختلف حصوں کی طرح اولاد آدم کی مختلف رنگتیں ہوئیں کوئی سفید،کوئی سرخ،کوئی سیاہ، کوئی خبیث، کوئی طیب، کوئی خوش خلق کوئی بدخلق۔ (مسند احمد: ۴/ ۴۰۶، ابو داود: ۴۶۹۳)