سورة الشعراء - آیت 195

بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

صاف عربی زبان میں ہے۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

یہ کلام کھلی فصیح عربی زبان میں ہے تاکہ ہر شخص سمجھ سکے، پڑھ سکے اور کسی کاعذر باقی نہ رہے اور ہر ایک پر قرآن کریم اللہ کی حجت بن جائے۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے نہایت فصاحت سے ابر کے اوصاف بیان کیے جسے سن کر صحابہ کرام ؓ کہہ اُٹھے یارسول اللہ! آپ تو کمال درجے کی فصیح و بلیغ زبان بولتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، بھلا میری ایسی پاکیزہ زبان کیوں نہ ہوگی کہ قرآن بھی تو میری زبان میں اُتراہے۔ (ابن کثیر: ۴/ ۶۲)