سورة الشعراء - آیت 128

أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

کیا تم ایک ایک ٹیلے پر بطور کھیل تماشہ یادگار (عمارت) بنا رہے ہو (١)۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

یاد گاریں تعمیر کرنا قوم عاد کا طریقہ اورعبث کام ہے۔ اس قوم کے تین افعال کااللہ تعالیٰ نے ذکرفرمایاان میں سے پہلے دوفن تعمیرسے تعلق رکھتے ہیں پہلایہ کہ یہ لوگ یادگاریں زیادہ تعمیر کرتے ہیں جن کا عملی زندگی میں کوئی فائدہ نہ ہوتا تھا۔ مثلاً کسی نے اپنی یادگار میں شاندارمقبرہ تعمیرکرالیا۔کسی نے کوئی اونچامینار بنا لیا، کسی نے بارہ دری تعمیرکرادی جیسے احرام مصر وغیرہ کہ ان سے مقصودصرف ناموری یا نمود ونمائش ہوتا تھا۔ دوسرا فعل یہ کہ وہ اپنے رہائشی گھربھی بہت اونچے اور مضبوط بناتے تھے۔اوریہ سمجھتے تھے کہ شایدازل سے ابدتک انھیں مکانات میں رہناہے۔