سورة طه - آیت 83

وَمَا أَعْجَلَكَ عَن قَوْمِكَ يَا مُوسَىٰ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اے موسٰی! تجھے اپنی قوم سے (غافل کرکے) کون سی چیز جلدی لے آئی؟

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

موسیٰ کا اپنے ہمراہیوں سے پہلے طور پر پہنچ جانا: اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے وعدہ فرمایا تھا کہ کوہ طور کے دامن میں پہنچ کر چالیس راتیں وہاں بسر کرنا تو تمھیں بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے کتاب تورات عطا کی جائے گی۔ چنانچہ موسیٰ نے بنی اسرائیل میں سے ستر آدمی اپنے ہمراہ لیے اور طور کی جانب روانہ ہو گئے لیکن آپ کو اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور ہم کلامی کا کچھ اتنا زیادہ اشتیاق تھا کہ آپ اپنے ہمراہیوں کو پیچھے چھوڑ کر پہلے ہی یہاں آ پہنچے‘‘ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے رب کے حضور عرض کیا کہ وہ لوگ بھی میرے پیچھے پیچھے یہاں پہنچ ہی رہے ہیں اور مجھے تیری ملاقات کا اشتیاق یہاں کھینچ لایا۔ پھر اسی موقعہ پر آپ نے اپنے پروردگار سے درخواست کی تھی کہ اے میرے پروردگار! مجھے اپنا آپ دکھا دے‘‘ اور یہ واقعہ سورہ بقرہ میں بیان ہو چکا ہے۔