سورة مريم - آیت 77

أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

کیا تو نے اسے بھی دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہا کہ مجھے تو مال و اولاد ضرور ہی دی جائے گی۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

عیار مقروض اور حضرت خباب رضی اللہ عنہ : حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مکہ میں لوہار کا پیشہ کیا کرتا تھا۔ میں نے عاص بن وائل کے لیے ایک تلوار بنائی، میں اس کی مزدوری مانگنے کے لیے اس کے پاس گیا تو وہ کہنے لگا میں اس وقت تک تجھے مزدوری نہیں دوں گا جب تک تومحمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر نہ جائے۔ میں نے کہا ’’جب اللہ تجھے موت دے گا پھر تجھے زندہ کرے گا میں اس وقت تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کروں گا۔‘‘ وہ کہنے لگا: ’’اچھا اگر اللہ مجھے مرنے کے بعد زندہ کرے گا تو پھر مجھے مال اور اولاد بھی دے گا (اس وقت میں تمھارا حساب چکا دوں گا) اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (مسلم: ۲۷۹۵، بخاری: ۴۷۳۲) اسی عاص بن وائل کے بیٹے سیدنا عمر وبن عاص رضی اللہ عنہ ہیں جب یہ ابھی اسلام نہیں لائے تھے تو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی واپسی کا مطالبہ کرنے والے قریشی وفد کے نمائندے تھے، پھر جب اسلام لائے تو اسلام کی بیش بہا خدمات سرانجام دی تھیں۔