سورة الكهف - آیت 80

وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَا أَن يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور اس لڑکے کے ماں باپ ایمان والے تھے، ہمیں خوف ہوا کہ کہیں یہ انھیں اپنی سرکشی اور کفر سے عاجز و پریشان نہ کر دے۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

یعنی وہ لڑکا بہت خوبصورت تھا اور مجھے اس بات کا (اللہ کی طرف سے) علم تھا کہ یہ گمراہی کا راستہ اختیار کرے گا او روالدین کو چونکہ اس سے بہت محبت تھی لہٰذا عین ممکن تھا کہ وہ اپنے ساتھ اپنے والدین کو بھی لے ڈوبے جو اللہ کے سچے فرمانبردار ہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ کی حکمت اس بات کو متقاضی ہوئی کہ اس لڑکے کا کام ہی تمام کر دے؟ ایک حدیث میں ہے کہ مومن کے لیے جو اللہ کے فیصلے ہوتے ہیں وہ سراسر بہتری اور عمدگی والے ہوتے ہیں۔ (تفسیر طبری)