سورة الرعد - آیت 22

وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور وہ اپنے رب کی رضامندی کی طلب کے لئے صبر کرتے ہیں (١) اور نمازوں کو برابر قائم رکھتے ہیں (٢) اور جو کچھ ہم نے انھیں دے رکھا ہے اسے چھپے کھلے خرچ کرتے ہیں (٣) اور برائی کو بھی بھلائی سے ٹالتے ہیں (٤) ان ہی کے لئے عاقبت کا گھر ہے (٥)۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

یعنی راہ حق میں پیش آنے والی مشکلات کو ثابت قدمی کے ساتھ برداشت کیا۔ نماز کی پوری پوری حفاظت کی۔ اللہ کی رضا کے لیے اپنے نفس کی خواہشات پر ضبط کیا۔ اور اللہ کی دی ہوئی چیزوں میں سے انھیں دیتے رہے جنھیں دینے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ چھپے کھلے، رات دن، وقت بے وقت برابر اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہے۔ قباحت کو احسان سے، برائی کو بھلائی سے، دشمنی کو دوستی سے ٹال دیتے ہے۔ دوسرا سرکشی کرے تو یہ نرمی کرتے ہیں عفوو درگزر سے کام لیتے ہیں۔ دوسروں کے ظلم سہ لیتے ہیں اور خود نیک سلوک کرتے ہیں۔ قرآن میں سورہ فصلت۳۴ میں فرمایا بہت اچھے طریقے سے ٹال دو تو دشمن بھی گاڑھا دوست بن جائے گا۔ صبر کرنے والے ہی اس مرتبے کو پاتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے اچھا انجام ہے۔ ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی کرنے والے وہ نہیں جو بھلائی کا بدلہ بھلائی سے دے بلکہ وہ ہے کہ اگر دوسرا اسے بُرے سلوک سے قطع کرنے کی کوشش کرے تو وہ اچھا سلوک کرکے اسے جوڑنے کی کوشش کرئے۔ (ترمذی: ۱۹۰۸، مسند احمد: ۲/ ۱۶۳)