سورة فاطر - آیت 14

إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ ۚ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اگر تم انہیں پکارو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں (١) اور اگر (با لفرض) سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے (٢) بلکہ قیامت کے دن تمہارے شریک اس شرک کا صاف انکار کر جائیں گے آپ کو کوئی بھی حق تعالیٰ جیسا خبردار خبریں نہ دے گا (٣)۔

تفسیر ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(٥) آیت ١٤ میں قیامت کے دن ان معبودوں کی بے بسی بیان کی ہے کہ قیامت کے دن ان کے یہ معبود ان کے شرک کی تردید کریں گے اور اپنی عبادت کرنے والوں سے بے زاری کا اعلان کریں گے جس سے معلوم ہوا کہ اللہ کا شریک نہیں ہے اور یہ مزعومہ رب اور دیوتا سب باطل ہیں۔