سورة التغابن - آیت 6

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُ كَانَت تَّأْتِيهِمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالُوا أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا فَكَفَرُوا وَتَوَلَّوا ۚ وَّاسْتَغْنَى اللَّهُ ۚ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَمِيدٌ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

یہ اس لئے کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے تو انہوں نے کہہ دیا کہ کیا انسان ہماری رہنمائی کرے گا پس انکار کردیا (١) اور منہ پھیر لیا (٢) اور اللہ نے بے نیازی کی (٣) اور اللہ تو ہے بے نیاز (٤) سب خوبیوں والا۔ (٥)

تفسیر سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

یہ عجیب بات ہے ۔ کہ کفار کے نزدیک معیار نبوت تو ہمیشہ ضرورت سے زیادہ بلند رہا ۔ اور معیار الوہیت ہمیشہ پست یعنی انبیاء کا تو انہوں نے اس بناء پر انکار کیا ۔ کہ وہ فوق البشر قوتوں اور استعدادوں کے جھکے نہیں ہیں ۔ وہ کیوں بشری تقاضوں کے سامنے جھکتے ہیں ۔ مگر خدا کے متعلق ان کی عقل نے یہی فیصلہ کیا ہے ۔ کہ وہ کوئی بڑی چیز نہیں ۔ انہوں نے بتوں پر قناعت کرلی ۔ درختوں اور پودوں کو مقدس مان لیا جو دریاؤں اور پہاڑوں کو معبود قرار دے لیا ۔ سانپوں اور اژداھوں کو خدا سمجھا ۔ اور زمین کے ہر بلند اور رفیع حصہ کو خلعت لاہوت سے نوازا ۔ یعنی یہ بات کتنی حیرت انگیز ہے ۔ کہ انسان کو اس عہدہ پر فائز نہیں ہونا چاہیے ۔ بلکہ اس منصف کا استحقاق وہ لوگ رکھتے ہیں ۔ جن میں الوہیت متجسد ہو ۔ تمہیں بھوک محسوس ہوتی ہو ۔ اور نہ پیاس ۔ جو اس عالم کے قوانین فطرت سے کیا قلم آزادہوں ۔ خدائی کے متعلق انکازاوایہ نگاہ یہ ہے ۔ ہر خوفناک چیز اور ہر مرغوب کن شخصیت بلکہ ہر وہ چیز جس میں کچھ عجیب وقدرت ہے ۔ بلاریب خدا ہے ۔ غور فرمائیے ان دونوں باتوں میں کتنا تضاد ہے ۔ بہرحال کہنا یہ ہے ۔ کہ سابقہ کفار نے بھی اللہ کے فرستادوں کا انکار محض اس بنا پر کردیا تھا ۔ کہ وہ بھی الوہیت کا دعویٰ نہیں کرتے تھے ۔ اور کبھی دھوکہ نہیں دیتے تھے ۔ وہ صاف کہتے تھے ہم بشر ہیں ۔ ہم انسان ہیں *۔ ہم میں فضیلت یہ ہے ۔ کہ اللہ نے ہم کو اس خدمت کے لئے منتخب فرمالیا ہے ۔ اور ہم اس کی طرف سے مامور ہیں ۔ کہ تمہاری اصلاح کریں ۔ اور تمہیں منکرات کے ارتکاب سے روک دیں ۔ وہ کہتے ۔ کہ ہم ایک اپنے ایسے انسان کو اپنے سے بہتر نہیں سمجھ سکتے ۔ اور پیغمبر نہیں قرار دے سکتے ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو ٹھکرانے کی وجہ سے عذاب آیا ۔ اور ان کے کبرونخوت کو ایک دم فنا کرکے رکھ دیا گیا ۔ ان نادانوں نے اتنا نہ سمجھا ۔ کہ وہ شخصیت جو کسوت انسانی میں نہیں ہے ۔ جس کی ضروریات اور تقاضے ہماری فطرت سے کوئی مناسبت نہیں رکھتے ۔ وہ ہماری راہما کیونکر ہوسکتی ہے ۔ ہمیں تو ایسے قائد کی ضرورت ہے ۔ جو فطرتاً ہماری مشکلات کا سامنا کرے ۔ ان کو محسوس کرے اور پھر اپنے حس عمل سے ہمارے لئے احساسات کا کیا علم ہوسکتا ہے ۔ پھر یہ کس طرح ہماری زمام قیادت اپنے ہاتھوں میں لے سکتے ہیں *۔ حل لغات : ۔ لہ الملک ۔ بادشاہت ۔ اسی کی سلطنت ہے * تعلمون ۔ اعلان سے ہے * وسورکم ۔ اور صورتیں بنائیں *