سورة فصلت - آیت 23

وَذَٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنتُم بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُم مِّنَ الْخَاسِرِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

تمہاری اس بد گمانی نے جو تم نے اپنے رب سے کر رکھی تھی تمہیں ہلاک کردیا (٣) اور بالآخر تم زیاں کاروں میں ہوگئے۔

تفسیر سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

خدا کا علم وسیع ہے ف 2: منکرین یہ سمجھے ہوئے تھے ۔ کہ ہماری سیاہ کاریوں کا علم خدا کو کس طرح ہوسکے گا ۔ اور یہ کیسے ممکن ہے ۔ کہ وہ ان اعمال کو دیکھ سکے جو ہم چھٹ کر کرتے ہیں ۔ اور جس طرح کی اطلاع چشم فلک کو بھی نہیں ہے ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے ۔ کہ ہماری تمام سیسہ کاریوں کو کوئی ذات اپنی قدرت سے معلوم کرلے مگر ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ ہوگی ۔ جب یہ دیکھیں گے کہ اس کی اطلاعات کس درجہ وسیع ہیں ۔ اور وہ خدا نہ صرف یہ کہ ان کی کرتوتوں کو جانتا ہے ۔ بلکہ یہ قدرت بھی رکھتا ہے ۔ کہ ان کے اپنے بدن کے حصے گواہی دینے لگیں ۔ کان ۔ آنکھیں اور کھالیں زبان احتیاج بن جائیں ۔ اور ان کی بدعملیوں کو واشگاف طور پر بیان کردیں ۔ فرمایا ۔ کہ ان کا اللہ کے باب میں یہ سوظن کہ وہ ہمارے اعمال سے آگاہ نہیں ہے ۔ یہی وہ بات تھی جس نے انہیں ہلاکت کے گڑھے میں ڈال دیا ۔ اور جس کی وجہ سے یہ گناہوں کو دلیرانہ مرض عمل میں نہ لاتے تھے ۔ آج ان کا جہنم ٹھکانہ ہے ۔ جسے صبر کے ساتھ برداشت کریں ۔ اور چاہے بےقراری اور بےچینی کا اظہار کریں ۔ نہ شکایت سنی جائے گی اور نہ تکلیف رفع کی جائیگی ۔