سورة الكهف - آیت 36

وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَىٰ رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنقَلَبًا

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور نہ میں قیامت کو قائم ہونے والی خیال کرتا ہوں اور اگر (بالفرض) میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو یقیناً میں (اس لوٹنے کی جگہ) اس سے بھی زیادہ بہتر (١) پاؤں گا۔

تفسیر سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

سرمایہ داری کا غرور : (ف ١) مکے والے مال ودولت کے نشہ میں سرشار تھے ، تمول کا خمار آنکھوں میں تھا اور امارت کا سودا دماغ میں سجا رہا تھا ، مسلمان ابتداء غریب تھے ، اس لئے وہ از راہ کبر مسلمانوں سے نفرت کرتے ، ان کے مذہب کو غربت ومسکنت کا مذہب سمجھتے اور کہتے کہ ہم ایسے دین کو قبول نہیں کرسکتے ، جس کے ماننے والے دنیوی حیثیت سے ہم سے بلند اور اعلی نہ ہوں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہاری مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر نعمت سے بہرہ ور کیا ہے ، اس کے پاس شاداب باغ اور کھیت ہیں ، بکثرت دوست ومددگار ہیں ، مگر مغرور ومتکبر ہے ، اپنے جاہ وحشم کو دیکھتا ہے ، اور پھولا نہیں سماتا ، اس کے خیال میں یہ عیش وکامرانی دائمی ہے ، اور آخرت میں بھی بزعم خود عزت وافتخار کا تنہا سزاوار ہے ، وہ اپنے دوسرے خدا پرست ساتھی سے کہتا ہے ، میرے پاس شاداب باغات ہیں ، دولت تم سے زیادہ ہے ، یہ سب باتیں اس انداز سے کہتا ہے کہ گویا ان تمام نعمتوں کو اس لئے اپنی محنت سے حاصل کیا ہے ، اور اللہ کے فضل وکرم کو اس میں کوئی دخل نہیں ، مومن اور خدا پرست اس کی تمام شیخی کی باتوں کو سنتا ہے ، اور کہتا ہے کہ یہ کفر ہے ، اللہ کے ساتھ اپنے نفس کو شریک ٹھہراتا ہے تمہیں اپنی قوت پر نہیں ، بلکہ اللہ کی توفیق پر خوش ہونا چاہئے تھا ، اور یہ کہنا چاہئے تاھ کہ یہ سب کچھ اللہ کی ضمانت سے مجھے ملا ہے ، اور جب تک اللہ چاہے گا ، اس کا فضل وکرم میرے شامل حال رہے گا تم مجھے حقارت کی نگاہ سے سے دیکھتے ہو ، اور تمہیں نہیں معلوم کہ اللہ مجھے تم سے کہیں زیادہ دولت دے سکتا ہے ، اس کے خزانے سدا معمور رہتے ہیں ، اور ہو سکتا ہے کہ تمہاری دولت لٹ جائے ، اللہ کا عذاب آجائے اور تمہارے باغات غارت ہوجائیں ، چنانچہ یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو چشم عتاب سے دیکھتے ہیں ، اور آن کی آن میں اس کا تمول خاک میں ملا دیتے ہیں باغ اجڑ جاتا ہے کلیاں گرتی ہیں ، سارا خرمن جل جاتا ہے ، اب وہ کف افسوس ملتا ہے اور کہتا ہے اے کاش ! میں اپنے رب کی عنایتوں کا معترف ہوتا ، اور اس دولت وتمول کو دائمی نہ سمجھتا ۔ اس مثال میں وہ شخص جو کبر وغرور کا مجسمہ ہے ، کفار مکہ سے ملتا جلتا ہے ، اور خدا پرست انسان مسلمان ہے جو اسلام کا نمائندہ ہے ، وہ کہتا ہے ، مکے والو ! تمہیں مسکینوں کو بنگاہ حقارت نہ دیکھنا چاہئے ہو سکتا ہے ، ہم کو اللہ تعالیٰ بلندی پر پہنچا دے اور تم تمام آسائشوں سے محروم ہوجاؤ ، یہ مال ودولت تو آزمائش کے لئے تمہیں دیا گیا ہے ، کہ تم کہاں تک اس کے امین ثابت ہوتے ہو ، جب تم غرور کا اظہار کرو گے ، اور اللہ کی نعمتوں کا شکریہ ادا نہیں کرو گے ، تو اللہ تم سے یہ نعمتیں چھین لے گا ، اور ان لوگوں کو دے دیگا جو اس کے فرمانبردار بندے ہوں گے ، سو بالکل اسی طرح وقوع پذیر ہوا ، اللہ نے مکہ والوں سے اقتدار چھین لیا ، اور مسلمانوں کو دے دیا جو مسکین مگر خدا کے شکر گزار اور دوست تھے ، قیصر وکسری کی حکومتوں کے وارث ٹھہرے اور جو تھوڑی سی دولت پر اس درجہ مغرور تھے ، ذلیل ورسوا ہوئے ۔ یہ اللہ کا قانون ہے کہ وہ حق شناس قوموں کو آگے بڑھاتا ہے اور ان قوموں کو جن کا سرمایہ عمل محض تعلی اور ہنر ہو گرا دیتا ہے ، اور فنا کے گھاٹ اتار دیتا ہے ۔ حل لغات : ابدا : بطور مجاز کے ہے یعنی جب تک میں زندہ ہوں ۔ غورا : عمق ۔ گہرائی ، نیچے اتر جانا ۔ عروشھا : جمع عرش ، بمعنے ٹٹی ۔