سورة المآئدہ - آیت 50

أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

کیا یہ لوگ پھر سے جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں (١) یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے والا کون ہوسکتا ہے (٢)۔

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

﴿ أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ﴾” اب کیا وہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں؟“ یعنی کیا وہ کفار کی دوستی طلب کر کے اور آپ سے اعراض کر کے جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں؟ ہر وہ فیصلہ جو اس چیز کے خلاف ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمایا وہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ ہر وہ فیصلہ جو اس چیز کے خلاف ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمایا وہ جاہلیت کا فیصلہ ہے۔ تب اس طرح صرف دو قسم کے فصلے ہیں۔ (١) اللہ او اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ۔ (٢) جاہلیت کا فیصلہ۔ پس جو کوئی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں سے منہ موڑتا ہے تو وہ دوسری قسم کے فیصلوں میں مبتلا ہوجاتا ہے جو جہالت، ظلم اور گمراہی پر مبنی ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان فیصلوں کو جاہلیت کی طرف مضاف کیا ہے۔ رہے اللہ تعالیٰ کے فیصلے تو وہ علم، عدل و انصاف، نور اور ہدایت پر مبنی ہوتے ہیں۔ ﴿ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ﴾ ” اور اللہ سے بہتر کون ہے فیصلہ کرنے والا، اس قوم کے لئے جو یقین رکھتی ہے‘‘ صاحب ایقان وہ ہے جو اپنے یقین کی بنیاد پر دونوں قسم کے فیصلوں کے درمیان فرق کو پہچانتا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں میں موجود حسن اور خوبصورتی میں امتیاز کرسکتا ہو اور عقلاً اور شرعاً ان کی تباع کو لازم قرار دیتا ہو اور یقین سے مراد وہ علم کامل و تام ہے جو عمل کا موجب ہوتا ہے۔