سورة المنافقون - آیت 10

وَأَنفِقُوا مِن مَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ الصَّالِحِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) اس سے پہلے خرچ کرو (١) کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو کہنے لگے اے میرے پروردگار مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا ؟ کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں ہوجاؤں۔

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

﴿وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰکُمْ﴾ ”اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں خرچ کرو۔ “اس حکم میں تمام نفقات واجبہ، مثلا: زکوۃ، کفارات، اہل وعیال اور غلاموں وغیرہ کا نان ونفقہ اور تمام نفقات مستحبہ، مثلا :تمام مصالح میں مال خرچ کرنا شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان :﴿ مِنْ مَّا رَزَقْنٰکُمْ﴾ یہ دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے نفقے کا مکلف نہیں بنایاجو ان کے لیے نہایت مشکل ہو اور ان پر شاق گزرے بلکہ ان کو اس رزق میں سے کچھ حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکالنے کا حکم دیا ہے جو اسی نے ان کو عطا اور میسر کیا اور اس کے اسباب مہیا کیے۔ پس انہیں چاہیے کہ وہ اپنے نادار بھائیوں کی مالی مدد کرکے اس ہستی کاشکر ادا کریں جس نے ان کو رزق عطا کیا ہے اور موت سے پہلے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کرلیں۔ موت جب آجائے گی توبندے کے لیے ممکن نہ ہوگا وہ ذرہ بھر بھی بھلائی کرسکے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ﴾ ”اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے اور پھر وہ کہنے لگے۔“ یعنی اس کوتاہی پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے جو اس وقت واقع ہوئی جب اللہ کے راستے میں خرچ کرنا ممکن تھا اور واپس لوٹا جانے کی التجا کرتے ہوئے ،حالانکہ یہ محال ہوگا (کہے گا:) ﴿ رَبِّ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِیْٓ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍ ﴾ ”اے میرے رب !تو نے مجھے تھوڑی سی اور مہلت کیوں نہ دی؟ “تاکہ جو میں کوتاہی کی ہے اس کا تدارک کرسکوں۔ ﴿فَاَصَّدَّقَ﴾ پس اپنے مال میں سے صدقہ کروں جس کے ذریعے سے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جاؤں اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہروں ﴿وَاَکُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ﴾ اور تمام مامورات کو ادا کرکے اور تمام منہیات سے اجتناب کرکے صالحین میں شامل ہوسکوں اور اس میں حج وغیرہ بھی شامل ہے۔ اس التجا اور تمنا کا وقت چلا گیا، جس کا تدارک ممکن نہیں ،بنابریں فرمایا :﴿وَلَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰہُ نَفْسًا اِذَا جَاءَ اَجَلُہَا ﴾ ”اور اللہ ہرگز مہلت نہیں دیتا کسی نفس کو جب اس کی موت کا وقت آجاتا ہے“ جس کا آنا حتمی ہے۔ ﴿ وَاللّٰہُ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ﴾ یعنی تم جو اچھے یابرے اعمال کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان کی خبر رکھتا ہے وہ تمہاری نیتوں اور اعمال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق تمہیں تمہارے اچھے برے اعمال کی جزا وسزا دے گا۔