سورة الزمر - آیت 73

وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کے گروہ کے گروہ جنت کی طرف روانہ کئے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آجائیں گے اور دروازے کھول دیئے جائیں گے اور وہاں کے نگہبان ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم خوش حال رہو تم اس میں ہمیشہ کیلیے چلے جاؤ۔ (١)

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

پھر اہل جنت کے بارے میں فرمایا : ﴿ وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ ﴾ ” اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے تھے انہیں لے جایا جائے گا“ متقین کو اللہ تعالیٰ کی توحید، ان کے عمل اور اطاعت کے سبب سے نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ وفدوں کی صورت میں ﴿ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا ﴾ ” جنت کی طرف گروہ در گروہ“ وہ خوش و خرم جنت میں جائیں گے۔ ہر جماعت ایسی جماعت کی معیت میں جنت میں داخل ہوگی جس کے ساتھ وہ عمل میں مشابہت رکھتی ہوگی۔ ﴿ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا ﴾ ” یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے“ یعنی جب یہ لوگ کشادہ اور خوبصورت جنتوں میں پہنچیں گے، باد نسیم کے جھونکے ان کا استقبال کریں گے، یہ نعمتیں اور جنتیں ہمیشہ رہیں گی۔ ﴿ وَفُتِحَتْ ﴾ ” اور کھول دیے جائیں گے“ ان کے لئے ﴿ أَبْوَابُهَا ﴾ ” اس کے دروازے“ سب سے زیادہ باعزت مخلوق کے لئے، عزت و اکرام کے ساتھ جنت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے تاکہ جنت میں ان کی عزت و تکریم ہو ﴿ وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا ﴾ ” اور جنت کے دربان ان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہیں گے ﴿ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ﴾ ” تم پر سلامتی ہو“ تم ہر آفت اور برے حال سے سلامت اور محفوظ ہو ﴿ طِبْتُمْ ﴾ تمہارے دل اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اس کی خشیت کے باعث، تمہاری زبانیں اس کے ذکر اور تمہارے جوارح اس کی اطاعت کے باعث اچھے رہے، لہٰذا اپنی اچھائی کے سبب سے ﴿ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ ﴾ ” اس جنگ میں ہمیشہ کے لئے داخل ہوجاؤ۔“ یہ پاک اور طیب گھر ہے اور طیبین کے سوا کسی کے لائق نہیں۔