سورة الصافات - آیت 48

وَعِندَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ عِينٌ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور ان کے پاس نیچی نظروں، بڑی بڑی آنکھوں والی (حوریں) ہونگی (١)

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل جنت کے مطعومات و مشروبات، ان کی مجالس، دیگر عام نعمتوں اور ان کی تفاصیل کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿جَنَّاتِ النَّعِيمِ﴾ کے عموم کے تحت آتی ہیں۔ ان کی تفصیل اس لئے بیان فرمائی تاکہ نفوس کو ان کا علم حاصل ہو اور ان کے اندر ان نعمتوں کا اشتیاق پیدا ہو۔ اس کے بعد ان کی بیویوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :﴿ وَعِندَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ عِينٌ﴾ ” اور ان کے پاس عورتیں ہوں گی جو نیچی نگاہوں والی اور موٹی آنکھوں والی ہوں گی۔“ یعنی اہل جنت کے پاس ان کے قریبی محلات میں خوبصورت حوریں ہوں گی، جو کامل اوصاف کی حامل اور نظریں جھکائے ہوئے ہوں گی۔ بیویاں یا تو اپنی عفت اور اپنے شوہر کے حسن و جمال اور اس کے کمال کی وجہ سے کسی اور طرف نہ دیکھیں گی اس لئے کہ جنت میں ان کے شوہر کے سوا ان کا کوئی اور مطلوب ہوگا نہ کسی اور میں رغبت رکھیں گی۔۔۔ یا ان کے شوہروں کی نگاہیں صرف انہی پر مرتکز ہوں گی۔ یہ چیز ان کے کامل اور بے انتہا حسن و جمال پر دلالت کرتی ہے جو اس بات کی موجب ہیں کہ ان کے شوہروں کی نگاہیں انھی پر مرتکز رہیں، نیز نگاہوں کا ان پر مرکوز ہونا، نفس کے صرف انھی پر اقتصار کرنے اور ان کے ساتھ محبت پر دلالت کرتا ہے۔ آیت کریمہ میں ان دونوں معنوں کا احتمال ہے اور دونوں صحیح ہیں۔ دونوں معنی جنت میں مردوں اور عورتوں کے حسن و جمال اور ان کی ایسی باہمی محبت پر دلالت کرتے ہیں جس میں غیر کی محبت کا شائبہ نہیں ہوتا۔ یہ اہل جنت کی عفت کی دلیل ہے، نیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اہل جنت میں باہمی بغض اور حسد نہیں ہوگا کیونکہ اس کے تمام اسباب ختم کردیئے جائیں گے۔