سورة السجدة - آیت 10

وَقَالُوا أَإِذَا ضَلَلْنَا فِي الْأَرْضِ أَإِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ ۚ بَلْ هُم بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ كَافِرُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور انہوں نے کہا کیا جب ہم زمین میں رل مل جائیں گے (١) کیا پھر نئی پیدائش میں آجائیں گے؟ بلکہ (بات یہ ہے) کہ وہ لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات کے منکر ہیں۔

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

قیامت کو بعید سمجھتے ہوئے اس کی تکذیب کرنے والوں نے کہا : ﴿ أَإِذَا ضَلَلْنَا فِي الْأَرْضِ ﴾ جب ہم بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہو کر زمین میں ایسی ایسی جگہوں میں بکھر جائیں گے جن کے بارے میں کچھ علم نہیں ہوگا ﴿ أَإِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ ﴾ تو کیا ہمیں نئے سرے سے پیدا کیا جائے گا۔ ان کے خیال میں یہ بعید ترین چیز ہے اور ایسا خیال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ خالق کائنات کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کرتے ہیں اور ان کا یہ کلام تلاش حقیقت کی خاطر نہیں، بلکہ یہ تو ظلم، عناد، اپنے رب کی ملاقات سے انکار اور کفر پر مبنی ہے۔ بنا بریں فرمایا : ﴿ بَلْ هُم بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ كَافِرُونَ ﴾ ” بلکہ وہ اپنے رب کی ملاقات سے انکار کرتے ہیں۔“ ان کے کلام ہی سے ان کی غرض و غایت معلوم ہوجاتی ہے ورنہ اگر ان کا مقصد بیان حق ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان کے سامنے ایسے قطعی دلائل بیان کرتا جو بصیرت کے لیے اتنے ہی نمایاں ہوتے جتنا بصارت کے لیے سورج۔ ان کے لیے یہی جان لینا کافی ہے کہ ان کو عدم سے وجود میں لایا گیا۔ ابتدا کی نسبت اس کا اعادہ آسان تر ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ مردہ زمین پر بارش برساتا ہے، زمین اپنی موت کے بعد جی اٹھتی ہے اور اپنے اندر بکھرے ہوئے بیجوں کو اگاتی ہے۔