سورة القصص - آیت 55

وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور جب بیہودہ بات (١) کان میں پڑتی ہے تو اس سے کنارہ کرلیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لئے اور تمہارے عمل تمہارے لئے، تم پر سلام ہو (٢) ہم جاہلوں سے (الجھنا) نہیں چاہتے۔

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

﴿وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ﴾ ” اور جب وہ کوئی فضول بات سنتے ہیں“ کسی جاہل شخص سے جو ان سے لغو گفتگو کرتا ہے ﴿قَالُوا﴾ تو وہ رحمان کے عقلمند بندوں کی مانندان سے کہتے ہیں : ﴿لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ﴾ ” ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال“۔ یعنی ہر شخص کو اسی اکیلے کے عمل کی جزا دی جائے گی اس پر کسی دوسرے کے عمل کا بوجھ نہیں ہوگا۔ اس سے لازم آتا ہے کہ وہ جہلاء کے لغو اور باطل کاموں اور بے فائدہ کلام سے بچے ہوئے ہیں۔ ﴿سَلَامٌ عَلَيْكُمْ﴾ ” سلامتی ہو تم پر“ یعنی تم لوگ ہم سے بھلائی کے سوا کچھ نہیں سنو گے اور نہ ہم تم سے تمہاری جہالت کے تقاضے کے مطابق مخاطب ہوں گے۔ کیونکہ تم اگرچہ اپنے لئے اس کمینگی پر راضی ہو مگر ہم اپنے آپ کو اس کمینے رویے سے پاک رکھتے ہیں اور اس میں ملوث ہونے سے بچتے ہیں۔ ﴿لَا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ﴾ ” ہم (کسی معاملے) میں جاہلوں سے نہیں الجھتے“۔