سورة مريم - آیت 44

يَا أَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ ۖ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَٰنِ عَصِيًّا

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

میرے ابا جان آپ شیطان کی پرستش سے باز آجائیں شیطان تو رحم و کرم والے اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی نافرمان ہے (١)۔

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

﴿يَا أَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ﴾ ” ابا جان ! شیطان کی عبادت نہ کریں“ کیونکہ جس نے غیر اللہ کی عبادت کی اس نے شیطان کی عبادت کی جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿ أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ ۖ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ﴾ (یٰسین : 36؍60) ”اے آدم کی اولاد ! کیا میں نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔“ ﴿ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ عَصِيًّا﴾ ” بے شک شیطان رحمٰن کا نافرمان ہے“ پس جو کوئی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرتا ہے وہ شیطان کا دوست، اور شیطان کی مانند اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے۔ یہاں نافرمانی کو اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (رحمن) کی طرف مضاف کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نافرمانیاں بندے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کردیتی ہیں اور اس پر رحمت کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔