سورة الإنسان - آیت 2

إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

بیشک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے امتحان کے لئے (١) پیدا کیا اور اس کو سنتا دیکھتا بنایا (٢)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢۔ ١ ملے جلے مطلب، مرد اور عورت دونوں کے پانی کا ملنا پھر ان کا مختلف اطوار سے گزرنا ہے۔ پیدا کرنے کا مقصد انسان کی آزمائش ہے۔ ٢۔ ٢ یعنی اسے سماعت اور بصارت کی قوتیں عطا کیں، تاکہ وہ سب کچھ دیکھ سکے اور سن سکے اور اس کے بعد اطاعت یا انکاری دونوں راستوں میں کسی ایک کا انتخاب کرسکے۔