سورة الطور - آیت 33

أَمْ يَقُولُونَ تَقَوَّلَهُ ۚ بَل لَّا يُؤْمِنُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

کیا یہ کہتے ہیں اس نبی نے (قرآن) خود گھڑ لیا ہے، واقع یہ ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔ (١)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٣٣۔ ١ یعنی قرآن گھڑنے کے الزام پر ان کو آمادہ کرنے والا بھی ان کا کفر ہی ہے۔