سورة الزخرف - آیت 47

فَلَمَّا جَاءَهُم بِآيَاتِنَا إِذَا هُم مِّنْهَا يَضْحَكُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

پس جب وہ ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے تو وہ بے ساختہ ان پر ہنسنے لگے (١)۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٤٧۔ ١ یعنی جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کے درباریوں کو دعوت توحید دی تو انہوں نے ان کے رسول ہونے کی دلیل طلب کی، جس پر انہوں نے وہ دلائل و معجزات پیش کئے جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے تھے، جنہیں دیکھ کر انہوں نے مذاق کیا اور کہا یہ کون سی چیزیں ہیں۔ یہ تو جادو کے ذریعے ہم بھی پیش کرسکتے ہیں۔